سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3921
Sunan Ibn Majah 3921
کتاب #36: کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , حَدَّثَنَا بُرَيْدَةُ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ , فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا يَمَامَةُ , أَوْ هَجَرٌ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ , وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ , أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ , فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ , ثُمَّ هَزَزْتُهُ فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ , فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ , وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ , فَإِذَا هُمُ النَّفَرُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ , وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ بَعْدُ , وَثَوَابِ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بِهِ يَوْمَ بَدْرٍ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے درخت ( بہت ) ہیں ، پھر میرا خیال یمامہ ( ریاض ) یا ہجر ( احساء ) کی طرف گیا ، لیکن وہ مدینہ ( یثرب ) نکلا ، اور میں نے اسی خواب میں یہ بھی دیکھا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی جس کا سرا ٹوٹ گیا ، اس کی تعبیر وہ صدمہ ہے جو احد کے دن مسلمانوں کو لاحق ہوا ، اس کے بعد میں نے پھر تلوار لہرائی تو وہ پہلے سے بھی بہتر ہو گئی ، اس کی تعبیر وہ فتح اور وہ اجتماعیت ہے جو اللہ نے بعد میں مسلمانوں کو عطا کی ، پھر میں نے اسی خواب میں کچھ گائیں بھی دیکھیں ، اور یہ آواز سنی ، «والله خير» یعنی ” اللہ بہتر ہے “ ، اس کی تعبیر یہ تھی کہ چند مسلمان جنگ احد کے دن کام آئے ۱؎ ، «والله خير» ، کی آواز آنے سے مراد وہ بہتری تھی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بعد دی ، اور وہ سچا ثواب ہے جو غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3921]
💡 وضاحت:
۱؎: تو گایوں کا ذبح ہونا ان لوگوں کی شہادت کی طرف اشارہ تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 25 (3622)، صحیح مسلم/الرؤیا 4 (2272)، (تحفة الأشراف: 9043)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الرؤیا 13 (2204) (صحیح)