سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3919
Sunan Ibn Majah 3919
کتاب #36: کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
10: بَابُ : تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا
باب: خواب کی تعبیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا , فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ , فَكَانَ مَنْ رَأَى مِنَّا رُؤْيَا يَقُصُّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدَكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي رُؤْيَا يُعَبِّرُهَا لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي , فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ , فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ , فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ , فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ , وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ , فَأَخَذُوا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ , فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ , فَزَعَمَتْ حَفْصَةُ أَنَّهَا قَصَّتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ , لَوْ كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ" , قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکا تھا ، اور رات میں مسجد میں سویا کرتا تھا ، اور ہم میں سے جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ اس کی تعبیر آپ سے پوچھا کرتا ، میں نے ( ایک دن دل میں ) کہا : اے اللہ ! اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہے تو مجھے بھی ایک خواب دکھا جس کی تعبیر میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیں ، پھر میں سویا تو میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے ، اور مجھے لے کر چلے ، ( راستے میں ) ان دونوں کو ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے کہا : تم خوفزدہ نہ ہو ، بالآخر وہ دونوں فرشتے مجھ کو جہنم کی طرف لے گئے ، میں نے اسے ایک کنویں کی طرح گھرا ہوا پایا ، ( اور میں نے اس میں اوپر نیچے بہت سے درجے دیکھے ) اور مجھے بہت سے جانے پہچانے لوگ بھی نظر آئے ، اس کے بعد وہ فرشتے مجھے دائیں طرف لے کر چلے ، پھر صبح ہوئی تو میں نے یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ، حفصہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبداللہ ایک نیک آدمی ہے ، اگر وہ رات کو نماز زیادہ پڑھا کرے “ ۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو نماز زیادہ پڑھنے لگے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3919]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 58 (440)، فضائل الصحابة 19 (3738، 3739)، التعبیر 35 (7028)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 31 (2479)، (تحفة الأشراف: 15805)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 123 (321)، سنن النسائی/المساجد 29 (723)، مسند احمد (2/146)، سنن الدارمی/الرؤیا 13 (2198) (صحیح)