سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3018
Sunan Ibn Majah 3018
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
58: بَابُ : الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ قُرَيْشٌ: " نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ، لَا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں ، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎ ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ : «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں ( یعنی عرفات سے ) “ اتاری ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3018]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی وجہ سے وہ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ «حل» میں واقع ہے، یعنی حرم سے باہر۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16922، ومصباح الزجاجة: 1054) (صحیح)