سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3016
Sunan Ibn Majah 3016
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
57: بَابُ : مَنْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ
باب: مزدلفہ کی رات میں فجر سے پہلے عرفات آنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ يَعْنِي الشَّعْبِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا وَهُمْ بِجَمْعٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْضَيْتُ رَاحِلَتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي، وَاللَّهِ إِنْ تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ مَعَنَا الصَّلَاةَ وَأَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ، وَتَمَّ حَجُّهُ".
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حج کیا ، تو اس وقت پہنچے جب لوگ مزدلفہ میں تھے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنی اونٹنی کو لاغر کر دیا اور اپنے آپ کو تھکا ڈالا ، اور قسم اللہ کی ! میں نے کوئی ایسا ٹیلہ نہیں چھوڑا ، جس پر نہ ٹھہرا ہوں ، تو کیا میرا حج ہو گیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہا ہو ، اور عرفات میں ٹھہر کر دن یا رات میں لوٹے ، تو اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ، اور اس کا حج پورا ہو گیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3016]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کر لی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج 69 (1950)، سنن الترمذی/الحج 57 (891)، سنن النسائی/الحج 211 (3042)، (تحفة الأشراف: 9900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/15، 261، 262)، سنن الدارمی/المناسک 54 (1930) (صحیح)