سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3017
Sunan Ibn Majah 3017
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
58: بَابُ : الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سُئِلَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟، قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ"، قَالَ وَكِيعٌ: وَالنَّصُّ يَعْنِي: فَوْقَ الْعَنَقِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا : عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے ؟ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم «عنق» کی چال ( تیز چال ) چلتے ، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کرتے یعنی دوڑتے ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عنق» سے زیادہ تیز چال کو «نص» کہتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3017]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 93 (1666)، الجہاد 136 (2999)، المغازي 77 (4413)، صحیح مسلم/الحج 47 (1280، 1286)، سنن ابی داود/الحج 64 (1923)، سنن النسائی/الحج 205 (3026)، 214 (3054)، (تحفة الأشراف: 104)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج57 (176)، مسند احمد (5/205، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922) (صحیح)