سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2666
Sunan Ibn Majah 2666
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، فَقَالَ لَهَا: أَقَتَلَكِ فُلَانٌ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر مار ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی سے ( اس کی موت سے پہلے ) پوچھا : کیا تجھے فلاں نے مارا ہے ؟ لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا : نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کے متعلق پوچھا : ( کیا فلاں نے مارا ہے ؟ ) دوبارہ بھی اس نے سر کے اشارے سے کہا : نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کے متعلق پوچھا : تو اس نے سر کے اشارے سے کہا : ہاں ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر قتل کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2666]
💡 وضاحت:
۱؎: اس وجہ سے کہ یہودی نے جرم کا اقرار کیا جب پکڑا گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 24 (5295)، تعلیقاً، الدیات 4 (6877)، 5 (6879)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4529)، سنن النسائی/القسامة 8 (4746)، (تحفة الأشراف: 1631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/171، 203) (صحیح)