سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2664
Sunan Ibn Majah 2664
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
23: بَابُ : هَلْ يُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْعَبْدِ
باب: کیا آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیا جائے گا؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَا: " قَتَلَ رَجُلٌ عَبْدَهُ عَمْدًا مُتَعَمِّدًا، فَجَلَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، وَنَفَاهُ سَنَةً وَمَحَا سَهْمَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے مارے ، ایک سال کے لیے جلا وطن کیا ، اور مسلمانوں کے حصوں میں سے اس کا حصہ ختم کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2664]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ إسحاق بن أبي فروة: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8663، 10022، ومصباح الزجاجة: 938) (ضعیف جدا) (سند میں اسحاق بن عبد اللہ متروک راوی ہے، اور اسماعیل بن عیاش غیر شامیوں سے روایت میں ضعیف ہیں)