سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1825
Sunan Ibn Majah 1825
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
21: بَابُ : صَدَقَةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ"، قَالَ عَبْدُ اللَّه: " فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور جو سے ایک ایک صاع صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : پھر لوگوں نے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کے برابر کر لیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1825]
💡 وضاحت:
۱؎: صدقہ فطر وہ صدقہ ہے جو عیدالفطر کے دن نماز عید سے پہلے دیا جاتا ہے، اہل حدیث کے نزدیک ہر قسم میں سے کھجور یا غلہ سے ایک صاع، حجازی صاع سے دینا چاہئے جو پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور موجودہ وزن کے حساب سے تقریباً ڈھائی کلو ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 70 (1503)، 71 (1504)، 74 (1507)، 77 (1511)، 78 (1512)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، (تحفة الأشراف: 8270)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة 19 (1615)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (676)، 36 (677)، سنن النسائی/الزکاة 30 (2502)، موطا امام مالک/الزکاة 28 (52)، مسند احمد (2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1702) (صحیح)