سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1828
Sunan Ibn Majah 1828
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
21: بَابُ : صَدَقَةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ".
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو نہ تو ہمیں صدقہ فطر دینے کا حکم دیا ، اور نہ ہی منع کیا ، اور ہم اسے دیتے رہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1828]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیا حکم نہیں دیا، پہلا حکم ہی کافی تھا، زکاۃ کا حکم اترنے سے صدقہ فطر موقوف نہیں ہوا، بلکہ اس کی فرضیت اپنے حال پر باقی رہی۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 35 (2508)، (تحفة الأشراف: 11098)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/442، 6/6) (صحیح)