سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1826
Sunan Ibn Majah 1826
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
21: بَابُ : صَدَقَةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر ایک پر فرض کیا ، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1826]
💡 وضاحت:
۱؎: «فَرَضَ» معنی میں «وَجَبَ» کے ہے، صدقہ فطرکے وجوب کی یہ حدیث واضح دلیل ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے اس کے وجوب پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ «فَرَضَ» قدر کے معنی میں ہے لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے، «من المسلمین» سے معلوم ہوا کہ کافر غلام کا صدقہ فطر نہیں نکالا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 71 (1506)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن ابی داود/الزکاة 19 (1611)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (676)، سنن النسائی/الزکاة 32 (2504)، 33 (2505)، (تحفة الأشراف: 8321)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 28 (52)، مسند احمد (2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1702) (صحیح)