سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1823
Sunan Ibn Majah 1823
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
20: بَابُ : زَكَاةِ الْعَسَلِ
باب: شہد کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيُّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي نَحْلًا، قَالَ: " أَدِّ الْعُشْرَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْمِهَا لِي، " فَحَمَاهَا لِي".
ابوسیارہ متقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئیے ، چنانچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کر دی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1823]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بطور حفاظت و نگرانی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاگیر میں دے دی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف لانقطاعه ¤ و قال البخاري في ھذا الحديث: ”ھو حديث مرسل،سليمان (بن موسي) لم يدرك أحدًا من أصحاب النبي ﷺ“ (علل الترمذي الكبير 1/ 313 باب في زكوة العسل) ¤ و الحديث الآتي (الأصل: 1824،وسنده حسن) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12055، ومصباح الزجاجة: 649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/236) (حسن) (سند میں سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہے، سلیمان کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہے، موت سے کچھ پہلے مختلط ہو گئے تھے، لیکن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، کماسیأتی)