سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1821
Sunan Ibn Majah 1821
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
19: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُخْرِجَ فِي الصَّدَقَةِ شَرَّ مَالِهِ
باب: زکاۃ میں خراب مال نکالنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ أَقْنَاءَ، أَوْ قِنْوًا، وَبِيَدِهِ عَصًا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِذَلِكَ، يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، وَيَقُولُ: " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے ، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے ، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے ، اور فرماتے : ” اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا ، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1821]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جیسا دیا ویسا پائے گا، اللہ تعالی غنی و بے پرواہ ہے، اس کے نام پر تو بہت عمدہ مال دینا چاہئے، وہ نیت کو دیکھتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة 16 (1608)، سنن النسائی/الزکاة 27 (2495)، (تحفة الأشراف: 10914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/23، 28) (حسن)