سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1819
Sunan Ibn Majah 1819
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
18: بَابُ : خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ
باب: (زکاۃ میں) کھجور اور انگور کا اندازہ لگانا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ".
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1819]
💡 وضاحت:
۱؎: «خرص» کا مطلب تخمینہ اور اندازہ لگانے کے ہیں یعنی کھجور وغیرہ کے درخت پر پھلوں کا اندازہ کرنا کہ اس درخت میں اتنا پھل نکلے گا، اور اندازے کے بعد رعایا کو اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ پھل توڑ لیں، پھر اندازہ کے موافق ان سے دسواں یا بیسواں حصہ لے لیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (163،1604) ترمذي (644) نسائي (2619) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة 13 (1603، 1604)، سنن الترمذی/الزکاة 17 (644)، سنن النسائی/الزکاة 100 (2619)، (تحفة الأشراف: 9748) (ضعیف) (سعید بن مسیب اور عتاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)