📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل (كتاب الزكاة) 🏷️ باب: باب: زکاۃ میں خراب مال نکالنا منع ہے۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1822 Sunan Ibn Majah 1822
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
19: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُخْرِجَ فِي الصَّدَقَةِ شَرَّ مَالِهِ
باب: زکاۃ میں خراب مال نکالنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فِي قَوْلِهِ سُبْحَانَهُ" وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267، قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ، كَانَتْ الْأَنْصَارُ تُخْرِجُ إِذَا كَانَ جِدَادُ النَّخْلِ مِنْ حِيطَانِهَا أَقْنَاءَ الْبُسْرِ، فَيُعَلِّقُونَهُ عَلَى حَبْلٍ بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، فَيَعْمِدُ أَحَدُهُمْ فَيُدْخِلُ قِنْوًا فِيهِ الْحَشَفُ، يَظُنُّ أَنَّهُ جَائِزٌ فِي كَثْرَةِ مَا يُوضَعُ مِنَ الْأَقْنَاءِ، فَنَزَلَ فِيمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267، يَقُولُ: لَا تَعْمِدُوا لِلْحَشَفِ مِنْهُ تُنْفِقُونَ، وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ، يَقُولُ: لَوْ أُهْدِيَ لَكُمْ مَا قَبِلْتُمُوهُ إِلَّا عَلَى اسْتِحْيَاءٍ مِنْ صَاحِبِهِ غَيْظًا، أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَا لَمْ يَكُنْ لَكُمْ فِيهِ حَاجَةٌ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَاتِكُمْ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ : «ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ( سورة التوبة : 267 ) انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے ( صدقے کے طور پر ) نکالتے ، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے ، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے ، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کر دیتا ، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے ، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ” قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو “ اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو ، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو ، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے ، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے ، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1822]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1798، ومصباح الزجاجة: 648)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 3 (2987) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1822
1820 1821 1822 1823 1824

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1821 حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيد...
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے ، اور ایک شخص نے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ