سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1651
Sunan Ibn Majah 1651
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
5: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَتَقَدَّمَ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ إِلاَّ مَنْ صَامَ صَوْمًا فَوَافَقَهُ
باب: رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلَا صَوْمَ حَتَّى يَجِيءَ رَمَضَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نصف شعبان ہو جائے ، تو روزے نہ رکھو ، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1651]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بات عام امت کے لئے ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ آپ شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملا دیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لئے روزہ آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا، لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں روزہ نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت و توانائی رمضان کے روزوں کے لئے برقرار رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 12 (2337)، سنن الترمذی/الصوم 38 (738)، (تحفة الأشراف: 14051، 14095)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 34 (1781) (صحیح)