سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1653
Sunan Ibn Majah 1653
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
6: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ
باب: رویت ہلال (چاند دیکھنے) کی گواہی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمُومَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، فَشَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوْا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ".
ابوعمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے انصاری چچاؤں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہو گیا تو اس کی صبح ہم نے روزہ رکھا ، پھر شام کو چند سوار آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لیے نکلیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1653]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عید کے چاند کے لئے دو آدمیوں کی شہادت ضروری ہے، اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ اگر شوال کے چاند کے دن یعنی رمضان کی ۲۹ تاریخ کو بادل ہو تو تیس دن پورے کرے جب تک چاند ثابت نہ ہو، جیسا کہ آگے آنے والی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 255 (1157)، سنن النسائی/صلاة العیدین 1 (1558)، (تحفة الأشراف: 15603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/57، 58) (صحیح)