سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1649
Sunan Ibn Majah 1649
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
4: بَابُ : مَا جَاءَ فِي وِصَالِ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
باب: شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے ملانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ".
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1649]
💡 وضاحت:
۱؎: پورے شعبان روزے رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزے زیادہ رکھتے تھے کیونکہ اس مہینہ میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں،اور آپ کو یہ بات بےحد پسند تھی کہ جب آپ کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو آپ روزے کی حالت میں ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصیام 44 (745 مختضراً)، سنن النسائی/الصیام 19 (2188)، (تحفة الأشراف: 16081)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 52 (970)، صحیح مسلم/الصیام 3 (1082)، موطا امام مالک/الصیام 22 (56)، مسند احمد (6/80، 89، 106) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1739) (حسن صحیح) (صحیح أبی داود: 2101)