سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1647
Sunan Ibn Majah 1647
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
3: بَابُ : مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ
باب: شک کے دن کے روزے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَبْلَ شَهْرِ رَمَضَانَ: " الصِّيَامُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَنَحْنُ مُتَقَدِّمُونَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَقَدَّمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَأَخَّرْ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان سے پہلے منبر پر فر مار ہے تھے : ” روزہ فلاں فلاں دن شروع ہو گا ، اور ہم اس سے پہلے سے روزہ رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے روزہ رکھے ، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1647]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رمضان کا دن آ جائے تب روزہ شروع کرے، واضح رہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، مسئلہ کے لیے حدیث نمبر (۱۶۵۰) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف مع مخالفته لحديث أبي هريرة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ العلاء بن الحارث اختلط (تقريب: 5230) ¤ والحديث شاذ،غريب جدًا،انظرالحديث الآتي (الأصل:1650) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11436، ومصباح الزجاجة: 600) (ضعیف) (سند میں ھیثم بن حمید ضعیف ہے، نیز (1650) نمبر پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ مخالف ہے)