سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1650
Sunan Ibn Majah 1650
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
5: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يَتَقَدَّمَ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ إِلاَّ مَنْ صَامَ صَوْمًا فَوَافَقَهُ
باب: رمضان سے ایک روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت اگر کوئی شخص پہلے سے روزہ رکھتا چلا آیا ہو تو جائز ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا بِيَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو ، الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے روزے رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1650]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً پہلے سے جمعرات یا سوموار (پیر) کے روزے رکھنے کا معمول ہو، اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دو یا ایک دن پہلے آ جائے تو اس کا روزہ رکھے کیونکہ یہ روزہ رمضان کے استقبال کے لیے نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الصوم 31 (2171، 2172)، 38 (2189)، (تحفة الأشراف: 15391)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 14 (1914)، صحیح مسلم/الصوم 3 (1082)، سنن ابی داود/الصوم 11 (2335)، سنن الترمذی/الصوم 2 (685)، مسند احمد (3/234، 347، 408، 438، 7 7 4، 497، 513)، سنن الدارمی/الصوم 4 (1731) (صحیح)