سنن أبي داود حدیث نمبر: 667
Sunan Abi Dawud 667
کتاب #--: ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
96: باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 667]
💡 وضاحت:
شیطان مومنین مخلصین پر ہر آن اور ہر مقام پر حملے کے لیے گھات میں رہتا ہے جب وہ نماز کی صفوں سے گھس آتا ہے تو مسجد سے باہر اور عام حالات میں اس کا حملہ اور سخت ہوتا ہو گا لہذا ہر مسلمان کو اپنے دفاع سے کبھی غافل نہیں رہنا چاہیے اور اس کی واحد صورت شریعت کا علم حاصل کرنا اور پھر تمام چھوٹے بڑے امور پر بلا تخصیص عمل پیرا ہوا ہے۔ «وباللہ التوفیق»
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1093، 1100) ¤ قتادة صرح بالسماع عند النسائي (816)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الإمامة 28 (816)، (تحفة الأشراف: 1132)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/260، 283) (صحیح)