سنن أبي داود حدیث نمبر: 4002
Sunan Abi Dawud 4002
کتاب #32: کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراتوں کا بیان
1: باب
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ وَالشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ هَذِهِ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِيَةٍ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإنها تغرب في عين حامية"» ”یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے“ (سورۃ الکہف: ۸۶) ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4002]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قرات «حَمِئَةٍ» ہے یعنی کالی مٹی کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3199، 4802، 4803) صحيح مسلم (159)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 4 (3199)، وتفسیر القرآن 36 (4803)، والتوحید 22 (7424)، صحیح مسلم/الإیمان 72 (159)، سنن الترمذی/الفتن 22 (2186)، تفسیر القرآن سورة یٰسن 37 (3227)، (تحفة الأشراف: 11993)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/145، 152، 158ع 165، 177) (صحیح)