سنن أبي داود حدیث نمبر: 4004
Sunan Abi Dawud 4004
کتاب #32: کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراتوں کا بیان
1: باب
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ" أَنَّهُ قَرَأَ: هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23، فَقَالَ شَقِيقٌ: إِنَّا نَقْرَؤُهَا: 0 هِئْتُ لَكَ 0 يَعْنِي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «هَيْتَ لَكَ» ۱؎ پڑھا تو ابووائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا: ہم تو اسے «هِئْتُ لَكَ» پڑھتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4004]
💡 وضاحت:
۱؎: معنی ہے آ جاؤ (سورۃ یوسف: ۳) اور «هئتُ» کے معنیٰ ہے میں تیار ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (4692)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر القرآن 4 (4692)، (تحفة الأشراف: 9265) (صحیح)