سنن أبي داود حدیث نمبر: 3973
Sunan Abi Dawud 3973
کتاب #32: کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراتوں کا بیان
1: باب
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تحسبن» (سین کے زیر کے ساتھ) پڑھا اور «لا تحسبن» (سین کو زبر کے ساتھ) نہیں پڑھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3973]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ وانظر الحديث السابق (142)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (142)، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)