سنن أبي داود حدیث نمبر: 4000
Sunan Abi Dawud 4000
کتاب #32: کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراتوں کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَرُبَمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَقْرَءُونَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا 0 مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 مَرْوَانُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ.
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور عثمان «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے تھے اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4000]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2928) ¤ الزهري عنعن وسعيد لم يدرك أبا بكر رضي اللّٰه عنه فالخبر منقطع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)