📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی - حدیث نمبر 235

Shamail al-Tirmidhi Hadith 235 (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
کتاب #36 📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح ( خوش طبعی اور دل لگی ) کا طریقہ (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ مِزَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ← 🏷️ باب: اے عمیر کہاں گئی تیری نغیر
عربی:
اردو:
🏷️ باب: اے عمیر کہاں گئی تیری نغیر
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ قَالَ أَبُو عِيسَى:" وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُمَازِحُ وَفِيهِ أَنَّهُ كَنَّى غُلَامًا صَغِيرًا فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ. وَفِيهِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ أَنْ يُعْطَى الصَّبِيُّ الطَّيْرَ لِيَلْعَبَ بِهِ. وَإِنَّمَا قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ لِأَنَّهُ كَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، فَحَزِنَ الْغُلَامُ عَلَيْهِ فَمَازَحَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اتنے مل جل جاتے تھے کہ ایک مرتبہ میرے چھوٹے بھائی کو کہا: ”اے عمیر کے باپ! تمہارا نغیر کیسا ہے۔“ امام ابوعیسیٰ (ترمذی) فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزاح بھی فرما لیا کرتے تھے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کی کنیت ابوعمیر رکھی، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اس میں کوئی امر مانع نہیں کہ بچے کو پرندہ دیا جائے کہ وہ اس سے کھیلے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: يا أبا عمير ما فعل النغير، اس سے مراد یہ ہے کہ اس بچے کے پاس ایک نغیر تھی جس سے وہ کھیلتا تھا وہ نغیر مر گئی تو اس بچے کو افسوس ہوا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دل لگی اور خوش طبعی کرتے ہوئے فرمایا: يا أبا عمير ما فعل النغير۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 235]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : (سنن ترمذي 333، 1989، وقال: حسن صحيح)، صحيح بخاري (6129)
شمائل ترمذی • حدیث #235
233 234 235 236 237

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#234 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ ال...
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اے دو کانوں والے۔“ راوی محمود...
#236 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ...
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مزاح بھی فرما ...
#237 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَن...
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری طلب کی، تو ...
#238 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ،...
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص دیہات کا رہنے والا تھا جس کا نام زاہر تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علی...
#239 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُ...
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عر...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ