شمائل ترمذی حدیث نمبر: 236
Shamail al-Tirmidhi 236
کتاب #36: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح ( خوش طبعی اور دل لگی ) کا طریقہ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: أَنبأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارِكِ، عَنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا قَالَ: «إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَا حَقًّا»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مزاح بھی فرما لیتے ہیں؟ فرمایا: ”(ہاں) مگر میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔“ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس روایت میں آمدہ لفظ «عربی عبارت» کا معنی «تداعبنا» ہے یعنی آپ ہم سے مزاح کرتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 236]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي: 1990، وقال: حسن صحيح)، مسند احمد (360/2)