📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح ( خوش طبعی اور دل لگی ) کا طریقہ (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ مِزَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: اے دو کانوں والے!
عربی:
اردو:
1: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ مِزَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اے دو کانوں والے!
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ» قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: «يَعْنِي يُمَازِحُهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اے دو کانوں والے۔“ راوی محمود (بن غیلان) کہتے ہیں کہ ابواسامہ نے کہا: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 234]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج: حسن : (سنن ترمذي: 1992 وقال: حسن غريب صحيح)، سنن ابي داود (5002)، مسند احمد (127/3) اس روایت کی سند قاضی شریک رحمہ اللہ (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن المعجم الکبیر للطبرانی (240/1 ح662) میں اس کا ایک حسن لذاتہ شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی حسن ہے۔
شمائل ترمذی • حدیث #234
232 233 234 235 236
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ