📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی - حدیث نمبر 233

Shamail al-Tirmidhi Hadith 233 (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
کتاب #35 📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے کا بیان (بَابُ مَا جَاءَ فِي ضَحِكِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ← 🏷️ باب: غزوہ خندق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکرانا
عربی:
اردو:
شمائل ترمذی حدیث نمبر: 233 Shamail al-Tirmidhi 233
کتاب #35: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے کا بیان
🏷️ باب: غزوہ خندق میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکرانا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ. قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ؟ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مَعَهُ تُرْسٌ، وَكَانَ سَعْدٌ رَامِيًا، وَكَانَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا بِالتُّرْسِ يُغَطِّي جَبْهَتَهُ، فَنَزَعَ لَهُ سَعْدٌ بِسَهْمٍ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَمَاهُ فَلَمْ يُخْطِئْ هَذِهِ مِنْهُ - يَعْنِي جَبْهَتَهُ - وَانْقَلَبَ الرَّجُلُ، وَشَالَ بِرِجْلِهِ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ . قَالَ: قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكَ؟ قَالَ: مِنْ فِعْلِهِ بِالرَّجُلِ
عامر بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خندق کے دن اتنا ہنسے کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہو گئیں (عامر بن سعد کہتے ہیں) میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اتنا) کیوں ہنسے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ایک (کافر) آدمی کے پاس ڈھال تھی اور سعد اگرچہ بڑے تیرانداز تھے مگر وہ کافر اپنی ڈھال کو اِدھر اُدھر کر کے اپنا چہرہ بچا رہا تھا، پس سعد نے اپنی ترکش سے تیر نکالا، تو جونہی اس کافر نے اپنا سر اٹھایا تو سعد نے تیر فوراً چھوڑ دیا اور اب کہ یہ تیر خطا نہ ہوا اور سیدھا اس کی پیشانی پر لگا، اور وہ گر گیا اور اس کی ٹانگ اوپر اٹھ گئی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ عامر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وجہ سے ہنسے؟ انہوں نے بتایا کہ سعد کے اس کام سے جو انہوں نے اس کافر سے کیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 233]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : مسند احمد (186/1) اس روایت کے راوی محمد بن محمد بن اسود کی توثیق معلوم نہیں اور باقی سند صحیح ہے، ابن عون سے مراد عبداللہ بن عون ہیں، یعنی یہ سند ابن الاسود مجہول الحال کی وجہ سے ضعیف ہے۔
شمائل ترمذی • حدیث #233
231 232 233 234 235

📖 اسی کتاب کی دیگر احادیث (Related Hadiths)

#225 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْح...
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں کسی قدر باریک تھیں...
#226 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ ال...
سیدنا عبداللہ بن الحارث بن جزء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مسکرانے والا کوئی...
#227 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحَانِ...
سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ تھی (قہقہہ نہیں لگاتے ...
#228 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأ...
سیدنا ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس شخص کو بخوبی جانتا ہوں جو...
#229 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِد...
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ن...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ