📖 شمائل ترمذی (Shamail al-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

بَابُ مَا جَاءَ فِي شَيْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کا بیان

کتاب #5 • کل احادیث: 8
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب کا استعمال نہیں فرمایا)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ، إِنَّمَا كَانَ شَيْبًا فِي صُدْغَيْهِ» وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ، خَضَبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ"
امام قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے سفید بالوں کو) رنگا ہے؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک اس حالت تک نہیں پہنچے تھے، صرف چند بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹی پر سفید تھے، ہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہندی اور کتم سے (اپنے بالوں کو) رنگا تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 37]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح بخاري (3550)، صحيح مسلم (2341)
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کل بال مبارک جو سفید ہوئے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ [ص: 56]، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «مَا عَدَدْتُ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِحْيَتِهِ إِلَّا أَرْبَعَ عَ‍شْرَةَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی مبارک میں صرف چودہ سفید بال شمار کیے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 38]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : احمد ( 165/3) وصرح عبدالرزاق بالسماع عنده، صحيح ابن حبان ( الاحسان: 6260، دوسرا نسخه: 6293)، المختارة للضياء المقدسي (179/5 . 180 ح 1802 . 1804)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، وَقَدْ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كَانَ إِذَا دَهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ شَيْبٌ، وَإِذَا لَمْ يَدْهِنْ رُئِيَ مِنْهُ»
سماک بن حرب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تیل لگاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑھاپا نظر نہ آتا اور جب تیل نہ لگاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ (سفید بال) نظر آتے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 39]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سنده صحيح : صحيح مسلم (2344)
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تقریباً بیس بال مبارک سفید تھے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «إِنَّمَا كَانَ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑھاپا تقریباً بیس بال مبارک سفید تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 40]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج: حسن : سنن ابن ماجه ( 3630)، صحيح ابن حبان ( الاحسان: 6261 . 6262، دوسرا نسخه: 6494 . 6295)، مسند احمد (90/2 ح 5633) روایت مذکورہ کی سند شریک بن عبداللہ القاضی مدلس کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح بخاری ( 3548) اور صحیح مسلم ( 2341) میں اس کا ایک شاہد ہے۔
(چند سورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ شِبْتَ، قَالَ: «شَيَّبَتْنِي هُودٌ، وَالْوَاقِعَةُ، وَالْمُرْسَلَاتُ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے سورہ ہود، واقعہ، مرسلات، عم یتساءلون اور إذا الشمس كورت نے بوڑھا کر دیا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 41]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سندہ ضعیف : (سنن ترمذي: 3297 وقال حسن غريب) اس روایت کی سند ابواسحاق السبیعی ( مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ دیکھئیے (انوار الصحیفہ ص 288) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کے (کچھ) بال سفید ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۂ ھود اور اس جیسی سورتوں کی وجہ سے یہ بال سفید ہوئے ہیں۔“ [ المعجم الكبير للطبراني 286/17۔ 287 ح 790 و سنده حسن ] معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس کے قریب بال سورۂ ھود اور اس جیسی سورتوں کے نزول کے بعد سفید ہوئے تھے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَاكَ قَدْ شِبْتَ، قَالَ: «قَدْ شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَأَخَوَاتُهَا»
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر بڑھاپا آ گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سورہ ہود اور اس کی بہنوں نے بوڑھا کر دیا۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 42]
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج: حسن : المعجم الكبير للطبراني (123/22 ح317)، حلية الاولياء (350/4) اس روایت کی سند ابواسحاق کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کا حسن لذاتہ شاہد بحوالہ المعجم الکبیر گزر چکا ہے۔ [ديكهئیے حديث سابق: 41]
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند سرخ بال مبارک)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ، تَيْمِ الرَّبَابِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، قَالَ: فَأَرَيْتُهُ، فَقُلْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ: «هَذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، وَلَهُ شَعْرٌ قَدْ عَلَاهُ الشَّيْبُ، وَشَيْبُهُ أَحْمَرُ»
سیدنا ابورمثہ تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور میرا ایک بیٹا بھی میرے ساتھ تھا۔ ابورمثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت کروائی گئی، پس جس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو فوراً کہہ اٹھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دو سبز رنگ کے کپڑے زیب تن فرمائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند موئے مبارک پر بڑھاپے کے آثار کا غلبہ تھا اور بڑھاپے کی علامت سرخ بال مبارک تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 43]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحیح : سنن دارمي(2393، نسخه محققه:2433) وعبدالملك بن عمير صرح بالسماع عنده، سنن ترمذي (2812) بسند آخر.، سنن ابي داؤد (4065) مختصرا وسنده صحيح
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مانگ کی جگہ چند بال مبارک سفید تھے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: قِيلَ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكَانَ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْبٌ؟ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْبٌ إِلَّا شَعَرَاتٌ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ، إِذَا ادَّهَنَ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ»
سماک بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں بڑھاپا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں مانگ نکالنے کی جگہ میں چند بالوں کے علاوہ کوئی جگہ کوئی بڑھاپا نہیں تھا، جب تیل لگاتے تو وہ تیل انہیں اوجھل کر دیتا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 44]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج: سندہ صحیح : صحيح مسلم (2344)، نيز ديكهئيے حديث سابق:39
← پچھلی کتاب #4 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #6 →