شمائل ترمذی حدیث نمبر: 41
Shamail al-Tirmidhi 41
کتاب #5: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کا بیان
4: بَابُ مَا جَاءَ فِي شَيْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(چند سورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ شِبْتَ، قَالَ: «شَيَّبَتْنِي هُودٌ، وَالْوَاقِعَةُ، وَالْمُرْسَلَاتُ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ بوڑھے ہو گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے سورہ ہود، واقعہ، مرسلات، عم یتساءلون اور إذا الشمس كورت نے بوڑھا کر دیا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 41]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سندہ ضعیف : (سنن ترمذي: 3297 وقال حسن غريب) اس روایت کی سند ابواسحاق السبیعی ( مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ دیکھئیے (انوار الصحیفہ ص 288) سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کے (کچھ) بال سفید ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۂ ھود اور اس جیسی سورتوں کی وجہ سے یہ بال سفید ہوئے ہیں۔“ [ المعجم الكبير للطبراني 286/17۔ 287 ح 790 و سنده حسن ] معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس کے قریب بال سورۂ ھود اور اس جیسی سورتوں کے نزول کے بعد سفید ہوئے تھے۔