📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام 54 کتب ↗

كِتَاب الْأَضَاحِيِّ

کتاب #35: قربانی کے احکام و مسائل

کتاب کے ابواب • حدیث: 5064 تا 5126 • کل احادیث: 63
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب وَقْتِهَا:
باب: قربانی کا وقت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ . ح، وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي جُنْدَبُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَعْدُ أَنْ صَلَّى وَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَرَى لَحْمَ أَضَاحِيَّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
ابوخثیمہ زہیر (بن معاویہ) نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جندب بن سفیان (بجلی) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحیٰ منائی، آپ نے نماز پڑھی اور آپ اس (نماز کے بعد خطبہ، دعا وغیرہ) سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ آپ نے قربانی کے جانوروں کا گوشت دیکھا جو نماز پڑھے جانے سے پہلے ذبح کر دیے گئے تھے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز پڑھنے سے۔ یا (فرمایا:) ہمارے نماز پڑھنے سے۔ پہلے اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیا وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5064]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ بِالنَّاسِ نَظَرَ إِلَى غَنَمٍ قَدْ ذُبِحَتْ، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ ".
ابواحوص سلام بن سلیم نے اسود بن قیس سے، انہوں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی میں شریک ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کچھ بھی نہ کیا تھا سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید کی) نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہوئے، سلام پھیرا کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بکری دیکھی کہ وہ نماز سے پہلے ذبح کی جا چکی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قربانی نماز عید سے پہلے کر لی تو اس قربانی کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی تو وہ اللہ کے نام کے ساتھ قربانی ذبح کر دے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5065]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا عَلَى اسْمِ اللَّهِ كَحَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
ابوعوانہ اور ابن عینیہ نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا: ”اللہ کے نام پر (ذبح کرے)“ جس طرح ابواحوص کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5066]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، سَمِعَ جُنْدَبًا الْبَجَلِيَّ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ أَضْحًى ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی، انہوں نے جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عید الاضحیٰ کے دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے نماز پڑھنے سے پہلے (اپنی قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تھا، وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5067]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5068]
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ؟ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ".
مطرف نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے ماموں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت کی ایک (عام) بکری ہے (قربانی کی نہیں۔)“ انہوں (حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر دو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے (کھانے کے) لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی مکمل ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پالیا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5069]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعِدْ نُسُكًا "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَقَالَ: " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ، وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
ہشیم نے داود سے، انہوں نے (عامر) شعبی سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ان کے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر دیا اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتا ہے۔ (اور اس کی چاہت باقی نہیں رہتی) اور میں نے اپنے بچوں، ہمسایوں اور گھر والوں (کو کھلانے) کے لیے قربانی کا جانور جلدی ذبح کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اور (جانور) ذبح کرو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی (کھیری) بکری ہے۔ وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری بہترین قربانی ہے (تم اسی کی قربانی کر لو) اور تمہارے بعد کسی کی طرف سے بھی ایک سالہ بکری کی قربانی کافی نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5070]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: " لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ "، قَالَ: فَقَالَ خَالِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ.
ابن ابی عدی داود سے، انہوں نے (عامر) شعبی سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”کوئی شخص بھی نماز سے پہلے ہرگز (قربانی کا جانور) ذبح نہ کرے۔“ تو میرے ماموں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت سے دل بھر جاتا ہے۔ پھر ہشیم کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5071]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَوَجَّهَ قِبْلَتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَلَا يَذْبَحْ حَتَّى يُصَلِّيَ "، فَقَالَ خَالِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ نَسَكْتُ عَنِ ابْنٍ لِي، فَقَالَ: " ذَاكَ شَيْءٌ عَجَّلْتَهُ لِأَهْلِكَ "، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي شَاةً خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْنِ، قَالَ: " ضَحِّ بِهَا فَإِنَّهَا خَيْرُ نَسِيكَةٍ ".
فراس نے عامر سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہماری طرح نماز پڑھے اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے اور ہماری قربانی کرے، وہ نماز پڑھنے سے پہلے ذبح نہ کرے۔“ میرے ماموں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے ایک بیٹے کی طرف سے قربانی کر چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ (ذبیحہ) ہے جسے تم نے اپنے گھر والوں (کو کھلانے) کے لیے جلد ذبح کر لیا۔“ انہوں نے کہا: میرے پاس ایک بکری ہے جو بکریوں سے بہتر ہے آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر دو وہ بہترین قربانی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5072]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ "، فَقَالَ: عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ: " اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے زبید یمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن ہم جس کام سے آغاز کریں گے (وہ یہ ہے) کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر لوٹیں گے، اور قربانی کریں گے۔ جس نے ایسا کیا، اس نے ہمارا طریقہ پالیا اور جس نے (پہلے) ذبح کر لیا تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو پیش کیا ہے۔ وہ کسی طرح بھی قربانی نہیں ہے۔“ حضرت ابوبردہ بن دینار رضی اللہ عنہ (اس سے پہلے) ذبح کر چکے تھے انہوں نے کہا: میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو دودانتی بکری دودانتے بکرے سے بہتر ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ذبح کر دو، اور تمہارے بعد یہ کسی کی طرف سے کافی نہ ہو گی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5073]
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے زبید سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے سنا، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5074]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
منصور نے شعبی سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن کے بعد ہمیں خطبہ دیا، پھر ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5075]
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ نَحْرٍ، فَقَالَ: " لَا يُضَحِّيَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يُصَلِّيَ "، قَالَ رَجُلٌ: عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، قَالَ: " فَضَحِّ بِهَا وَلَا تَجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
عاصم احول نے شعبی سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”کوئی شخص نماز پڑھنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔“ ایک شخص نے کہا: میرے پاس ایک سالہ دودھ پینے والی (کھیری) بکری ہے جو گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر دو، تمہارے بعد ایک سالہ بکری کسی کے لیے کافی نہ ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5076]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْدِلْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَظُنُّهُ قَالَ وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ".
محمد بن جریر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بدلے میں دوسری قربانی کرو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سالہ بکری ہے۔ شعبہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا:۔۔۔اور وہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کی جگہ (ذبح) کر لو لیکن یہ تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5077]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ فِي قَوْلِهِ هِيَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ.
وہب بن جریر اور ابوعامر عقدی نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”یہ دو دانتی بکری سے بہتر ہے“ کے بارے میں کسی شک کا اظہار نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5078]
وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ "، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ، وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ، قَالَ: وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ أَفَأَذْبَحُهَا؟، قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا، قَالَ: " وَانْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ، فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ، فَتَوَزَّعُوهَا أَوَ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا ".
اسماعیل بن ابراہیم (ابن علیہ) نے ایوب سے، انہوں نے محمد (بن سیرین) سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا: ”جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کر لی ہے وہ پھر اسے کرے۔“ تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے کہ اس میں گوشت کی خواہش ہوتی ہے۔ اس نے اپنے ہمسایوں کی ضرورت مندی کا بھی ذکر کیا۔ (ایسا لگا) جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق کی ہو۔ اس نے (مزید) کہا: اور میرے پاس ایک سالہ بکری ہے وہ مجھے گوشت والی دو بکریوں سے زیادہ پسند ہے کیا میں اسے ذبح کر دوں؟ کہا: آپ نے اسے اس کی اجازت دے دی۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھے معلوم نہیں کہ آپ کی دی ہوئی رخصت اس (شخص) کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں؟ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کا رخ کیا اور ان کو ذبح فرمایا۔ لوگ کھڑے ہو کر بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو آپس میں تقسیم کر لیا۔۔۔یا کہا: اس کے حصے کر لیے۔۔۔۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5079]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ أَنْ يُعِيدَ ذِبْحًا، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ،
حماد بن زید نے کہا: ہمیں ایوب اور ہشام نے محمد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا، پھر آپ نے حکم دیا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کی ہے وہ دوبارہ کرے، اس کے بعد ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5080]
وحَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ يَحْيَي الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى، قَالَ: فَوَجَدَ رِيحَ لَحْمٍ، فَنَهَاهُمْ أَنْ يَذْبَحُوا، قَالَ: مَنْ كَانَ ضَحَّى فَلْيُعِدْ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.
حاتم بن وردان نے کہا: ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ دیا کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی بو محسوس ہوئی تو آپ نے ان کو ذبح کرنے سے منع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (نماز سے پہلے) ذبح کیا ہے وہ دوبارہ (قربانی) کرے۔“ پھر (حاتم نے) ان دونوں (ابن علیہ اور حماد بن زید) کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5081]
2: باب سِنِّ الأُضْحِيَةِ:
باب: قربانی کی عمر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف مسنہ (دو دانتا) جانور کی قربانی کرو ہاں! اگر تم کو دشوار ہو تو ایک سالہ دنبہ یا مینڈھا ذبح کر دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5082]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمَدِينَةِ، فَتَقَدَّمَ رِجَالٌ فَنَحَرُوا وَظَنُّوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرَ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ نَحَرَ قَبْلَهُ أَنْ يُعِيدَ بِنَحْرٍ آخَرَ، وَلَا يَنْحَرُوا حَتَّى يَنْحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن مدینہ میں نماز پڑھائی کچھ لوگوں نے جلدی کی اور قربانی کر لی۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کر لی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس نے آپ (کے نماز اور خطبے سے فارغ ہونے) سے پہلے قربانی کر لی وہ ایک اور قربانی کریں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص قربانی نہ کرے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5083]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِّ بِهِ أَنْتَ "، قَالَ قُتَيْبَةُ: عَلَى صَحَابَتِهِ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے انہوں نے ابوخیر سے انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں عطا کیں کہ وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں میں قربانی کے لیے تقسیم کر دیں۔ آخر میں بکری کا ایک سالہ بچہ رہ گیا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس کی قربانی تم کر لو۔“ قتیبہ نے (اصحابہ کے بجائے) ”علی صحابتہ آپ کے صحابیوں میں (تقسیم کر دیں۔)“ کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5084]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا ضَحَايَا، فَأَصَابَنِي جَذَعٌ، فَقُلْتُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ أَصَابَنِي جَذَعٌ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهِ ".
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے بعجہ جہنی سے انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قربانی کے کچھ جانور بانٹے تو مجھے ایک سالہ بھیڑ یا بکری ملی۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! میرے حصے میں ایک سالہ بھیڑ یا بکری آئی ہے آپ نے فرمایا: ”اسی کی قربانی کر دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5085]
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
معاویہ بن سلام نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے بعجہ بن عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں میں قربانی کے جانور تقسیم کیے۔ اسی (سابقہ) حدیث کے ہم معنی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5086]
3: باب اسْتِحْبَابِ الضَّحِيَّةِ وَذَبْحِهَا مُبَاشَرَةً بِلاَ تَوْكِيلٍ وَالتَّسْمِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ:
باب: قربانی اپنے ہاتھ سے کرنا مستحب ہے اسی طرح بسم اللہ و اللہ اکبر کہنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ وَسَمَّى وَكَبَّرَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا ".
ابوعوانہ نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا بسم اللہ پڑھی اور تکبیر کہی۔ آپ نے (قربانی کے وقت انہیں لٹا کر) ان کے رخسار پر اپنا قدم مبارک رکھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5087]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا، قَالَ: وَسَمَّى وَكَبَّرَ ".
وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خوبصورت سفید رنگ کے بڑے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی دی۔ کہا: میں نے دیکھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے تھے۔ اور میں نے دیکھا آپ نے ان کے رخسار پر قدم رکھا ہوا تھا (اور) کہا: آپ نے اللہ کا نام لیا (بسم اللہ پڑھی) اور تکبیر کہی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5088]
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ: قُلْتُ: آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ.
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی: کہا: مجھے قتادہ نے بتایا کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی دی اس (پچھلی حدیث) کے مانند۔ (شعبہ نے) کہا: میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا آپ نے (خود) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5089]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَيَقُولُ: بِاسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ.
سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے مانند روایت کی مگر انہوں نے یہ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ واللہ اکبر کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5090]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ حَيْوَةُ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُضَحِّيَ بِهِ، فَقَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ: " هَلُمِّي الْمُدْيَةَ "، ثُمَّ قَالَ: " اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ "، فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ، ثُمَّ قَالَ: " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ " ثُمَّ ضَحَّى بِهِ.
عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو (یعنی پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں)۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لے۔ میں نے تیز کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ، اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر، پھر اس کی قربانی کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5091]
4: باب جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلاَّ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَائِرَ الْعِظَامِ:
باب: ذبح ہر چیز سے درست ہے جو خون بہائے سوائے دانت اور ناخن اور ہڈی کے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْجِلْ أَوْ أَرْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ، فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ "، قَالَ: وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ".
یحییٰ بن سعید نے سفیان (بن سعید) سے روایت کی، کہا: مجھے میرے والد (سعید بن مسروق) نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم کل دشمن سے لڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جلدی کر یا ہوشیاری کر جو خون بہا دے اور اللہ کا نام لیا جائے اس کو کھا لے، سوا دانت اور ناخن کے۔ اور میں تجھ سے کہوں گا اس کی وجہ یہ ہے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔ راوی نے کہا کہ ہمیں مال غنیمت میں اونٹ اور بکریاں ملیں، پھر ان میں سے ایک اونٹ بگڑ گیا، ایک شخص نے اس کو تیر سے مارا تو وہ ٹھہر گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں میں بھی بعض بگڑ جاتے ہیں اور بھاگ نکلتے ہیں جیسے جنگلی جانور بھاگتے ہیں۔ پھر جب کوئی جانور ایسا ہو جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو۔ (یعنی دور سے تیر سے نشانہ کرو)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5092]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ.
وکیع نے کہا: ہمیں سفیان بن سعید بن مسروق نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ تو ہمیں (غنیمت میں) بکریاں اور اونٹ حاصل ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کی اور (ان میں سے کچھ جانوروں کو ذبح کیا، ان کا گوشت کاٹا اور) ہانڈیاں چڑھا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حکم دیا اور ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر آپ نے (سب کے حصے تقسیم کرنے کے لیے) دس بکریوں کو ایک اونٹ کے مساوی قرار دیا۔ اس کے بعد یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5093]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ ، ثُمَّ حَدَّثَنِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى فَنُذَكِّي بِاللِّيطِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَقَالَ: فَنَدَّ عَلَيْنَا بَعِيرٌ مِنْهَا فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ حَتَّى وَهَصْنَاهُ.
اسماعیل بن مسلم اور عمر بن سعید نے سعید بن مسروق سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے، انہوں نے اپنے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے عرض کی، اللہ کے رسول اللہ! کل ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، کیا ہم بانس کے چھلکے (یا تیز دھار کھپچی) سے ذبح کر سکتے ہیں؟ اور سارے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور کہا: ایک اونٹ ہم سے بدک کر بھاگ نکلا تو ہم نے اس پر تیر چلائے یہاں تک کہ اس کو گرا لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5094]
وحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ إِلَى آخِرِهِ بِتَمَامِهِ، وَقَالَ فِيهِ وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ.
زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا (ہم نے عرض کی:) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں (کی کچھیوں) سے جانور ذبح کر لیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5095]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَعَجِلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ بِهَا فَكُفِئَتْ وَذَكَرَ سَائِرَ الْقِصَّةِ.
زائدہ نے سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث آخر تک پوری بیان کی اور اس میں کہا: (ہم نے عرض کی،) ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانسوں (کی کھپچیوں) سے جانور ذبح کر لیں۔ شعبہ نے سعید بن مسروق سے انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع سے انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا (ہم نے عرض کی:) اللہ کے رسول اللہ! کل ہم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں پھر حدیث بیان کی، البتہ اس میں یہ نہیں کہا: ”لوگوں نے جلد بازی کی اور ان کے گوشت سے ہانڈیاں ابالنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا۔“ اور انہوں نے باقی سارا قصہ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5096]
5: باب بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلاَثٍ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ:
باب: ابتدائے اسلام میں ، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت اور اس کے منسوخ ہونے اور زائد از تین دن کھانے کی حلت کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ مِنْ لُحُومِ نُسُكِنَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ".
سفیان نے کہا: ہمیں زہری نے ابوعبید سے روایت کی کہا: میں عید کے موقع پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ ہم تین دن (گزر جانے) کے بعد اپنی قربانیوں کا گوشت کھائیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5097]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: فَصَلَّى لَنَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَا تَأْكُلُوا ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابن ازہر کے مولیٰ ابوعبید نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید پڑھی کہا: اس کے بعد میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کی نماز پڑھی انہوں نے خطبے سے پہلے ہمیں نماز پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو تین راتوں سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے اس لیے (تین راتوں کے بعد یہ گوشت) نہ کھاؤ۔ ان تین دنوں میں کھا کر اور تقسیم کر کے ختم کر دو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5098]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن شہاب کے بھتیجے صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5099]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَأْكُلْ أَحَدٌ مِنْ لَحْمِ أُضْحِيَّتِهِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ".
لیث نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی قربانی کے گوشت میں سے تین دن کے بعد (کچھ) نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5100]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ابن جریج اور ضحاک بن عثمان دونوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیث کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5101]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبد : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ "، قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَأْكُلُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: بَعْدَ ثَلَاثٍ.
ابن ابی عمر اور عبدبن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: عبدالرزاق نے کہا: معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے سالم سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس بات سے) منع کیا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھایا جائے۔ سالم نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور ابن ابی عمر نے (تین دن سے اوپر کے بجائے) ”تین کے بعد“ کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5102]
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ ، فَقَالَتْ: صَدَقَ, سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادَّخِرُوا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَ الْأَسْقِيَةَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ "، قَالُوا: نَهَيْتَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ: " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا ".
عبداللہ بن ابی بکر نے حضرت عبداللہ بن واقد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین (دن رات) کے بعد قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: میں نے یہ بات عمرہ (بنت عبدالرحمان بن سعد انصاریہ) کو بتائی عمرہ نے کہا: انہوں نے سچ کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے (بھوک اور کمزوری کے سبب) آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جہاں لوگ قربانیوں کے لیے موجود تھے (قربان گاہ میں) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن تک کے لیے گوشت رکھ لو۔ جو باقی بچے (سب کا سب) صدقہ کر دو۔“ دوبارہ جب اس (قربانی) کا موقع آیا تو لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! لوگ تو اپنی قربانی (کی کھالوں) سے مشکیں بناتے ہیں اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ انہوں نے کہا: یہ (صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ) آپ نے منع فرمایا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت (وغیرہ استعمال نہ کیا جائے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو تمہیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آئے تھے۔ اب (قربانی کا گوشت) کھاؤ رکھو اور صدقہ کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5103]
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: بَعْدُ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”کھاؤ اور زاد راہ بناؤ اور رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5104]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًى، فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلُوا وَتَزَوَّدُوا "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قَالَ جَابِرٌ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: نَعَمْ.
ابن جریج نے کہا: ہمیں عطاء نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: (پہلے) ہم منیٰ کے تین دنوں سے زیادہ اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا: ”کھاؤ اور ساتھ لے جاؤ۔ (اور صدقہ کرو جس طرح دوسری احادیث میں ہے۔)“ میں نے عطاء سے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ (مدینہ تک پہنچنے کے آٹھ دنوں تک بطور زاد راہ استعمال کرتے رہے؟) انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5105]
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا لَا نُمْسِكُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَزَوَّدَ مِنْهَا وَنَأْكُلَ مِنْهَا يَعْنِي فَوْقَ ثَلَاثٍ ".
زید بن ابی انیسہ نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں رکھتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس میں سے زاد راہ بنائیں اور اس سے کھائیں، یعنی تین سے زیادہ (دنوں تک)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5106]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا نَتَزَوَّدُهَا إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو (بن دینار) نے عطاء سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قربانیوں کا گوشت زاد راہ کے طور پر مدینہ تک ساتھ لے جاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5107]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ "، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ لَهُمْ عِيَالًا وَحَشَمًا وَخَدَمًا، فَقَالَ: " كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوِ ادَّخِرُوا "، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: شَكَّ عَبْدُ الْأَعْلَى.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے جریری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی، ہمیں سعید نے قتادہ سے، انہوں نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”مدینہ والو! قربانیوں کا گوشت تین (دنوں۔ راتوں) سے زیادہ نہ کھاتے رہو۔“ ابن مثنیٰ نے (صراحت سے) ”تین دن (سے زیادہ)“ کہا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ ہمارے بال بچے اور نوکر چاکر ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”کھاؤ اور کھلاؤ اور روک کر رکھو یا (فرمایا:) ذخیرہ کرو۔“ ابن مثنیٰ نے کہا: عبدالاعلیٰ کو (ان دو لفظوں میں) شک ہے (کہ آپ نے ”روک کر رکھو“ فرمایا، یا ”ذخیرہ کرو“ فرمایا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5108]
حَدَّثَنَا إِسْحاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا "، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ، فَقَالَ: " لَا إِنَّ ذَاكَ عَامٌ كَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ ".
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد اس کے گھر میں (اس گوشت میں سے) کوئی چیز نہ رہے۔“ جب اگلے سال (میں عید کا دن) آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، وہ ایسا سال تھا کہ اس میں لوگ سخت ضرورت مند تھے تو میں نے چاہا کہ (قربانی کا گوشت) ان میں پھیل (کر ہر ایک تک پہنچ) جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5109]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِيَّتَهُ، ثُمَّ قَالَ يَا ثَوْبَانُ: " أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ "، فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ.
معن بن عیسیٰ نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے ابوزاہریہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے قربانی کے جانوروں میں سے) قربانی کا ایک جانور ذبح کر کے فرمایا: ”ثوبان! اس کے گوشت کو درست کر لو (ساتھ لے جانے کے لیے تیار کر لو۔)“ پھر میں وہ گوشت آپ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5110]
زید بن حباب اور عبدالرحمان بن مہدی دونوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5111]
وحَدَّثَنِي إِسْحاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ "، قَالَ: فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغَ الْمَدِينَةَ.
ابومسہر نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زبیدی نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا: ”اس گوشت کو (ساتھ لے جانے کے لیے) درست کر لو۔“ انہوں نے کہا: پھر میں نے اس کو تیار کیا اور آپ اس گوشت کو تناول فرماتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5112]
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
محمد بن مبارک نے کہا: ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ”حجۃ الوداع میں“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5113]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ".
ابوسنان ضرار بن مرہ نے محارب بن دثار سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے (پہلے) تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، (اب) تم زیارت کر لیا کرو اور میں نے (پہلے) تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، (اب) تمہارا جب تک کے لیے جی چاہے قربانی کا گوشت رکھو۔ اور میں نے تم کو مشک کے علاوہ (ہر قسم کے برتن میں) نبیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم ہر طرح کے برتنوں میں پیو اور نشہ آور چیز نہ پیو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5114]
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ.
علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے پہلے تمہیں منع کیا تھا۔“ پھر ابن سنان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5115]
6: باب الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ:
باب: فرع اور عتیرہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِد ُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ " زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ہمیں سفیان بن عینیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے زہری سے روایت کی، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، نیز محمد بن رافع اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ جانور کا پہلوٹھا بچہ ذبح کرنا (واجب/جائز) ہے، نہ رجب کے شروع میں جانور قربان کرنا درست ہے۔“ ابن رافع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا: فرع سے مراد پہلوٹھی کا بچہ تھا، جب وہ جنم پاتا تو وہ اسے ذبح کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5116]
7: باب نَهْيِ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ وَهُوَ مُرِيدُ التَّضْحِيَةِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَعْرِهِ أَوْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا.
باب: جو شخص قربانی والا ہو وہ ذی الحجہ کی پہلی تاریخ سے قربانی تک بال اور ناخن نہ کتروائے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا "، قِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ، قَالَ: لَكِنِّي أَرْفَعُهُ.
ابن ابی عمر مکی نے کہا: ہمیں سفیان نے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے حدیث سنائی: انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔“ سفیان سے کہا گیا کہ بعض راوی اس حدیث کو مرفوعاً (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) بیان نہیں کرتے (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول بتاتے ہیں)، انہوں نے کہا: لیکن میں اس کو مرفوعاً بیان کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5117]
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيم ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا ".
اسحاق بن ابراہیم نے کہا: سفیان نے ہمیں خبر دی، کہا: مجھے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہو جائے تو جس شخص کے پاس قربانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اپنے بال اتارے نہ ناخن تراشے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5118]
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ ".
یحییٰ بن کثیر عنبری ابوغسان نے کہا: ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمر بن مسلم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو (نہ کاٹے) اپنے حال پر رہنے دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5119]
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمر یا عمرو بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5120]
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ، فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ ".
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں محمد بن عمر ولیثی نے عمر بن مسلم بن عمارہ بن اُکیمہ لیثی سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہہ رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس ذبح کرنے کے لیے کوئی ذبیحہ ہو تو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے، وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے، یہاں تک کہ قربانی کر لے (پھر بال اور ناخن کاٹے۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5121]
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الْأَضْحَى، فَاطَّلَى فِيهِ نَاسٌ، فَقَالَ: بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَكْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَى عَنْهُ، فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ. حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،
ابواسامہ نے کہا: مجھے محمد بن عمرو نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عمرو بن مسلم بن عمارہ لیثی نے حدیث بیان کی، کہا: عیدالاضحیٰ سے کچھ پہلے حمام میں تھے، بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بال صاف کیے، اہل حمام میں سے کسی شخص نے کہا: سعید بن مسیب اس فعل (عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے اور قربانی کرنے سے پہلے جسم پر سے بال وغیرہ کاٹنے یا مونڈنے) کو مکروہ قرار دیتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں۔ میری سعید بن مسیب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! یہ حدیث بھلا دی گئی اور ترک کر دی گئی ہے۔ (یہ پابندی ملحوظ نہیں رکھی جاتی ویسے) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ آگے محمد بن عمر سے معاذ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5122]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
سعید بن ابی ہلال نے عمرو بن مسلم جندعی سے روایت کی کہ حضرت سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا (پھر) ان سب کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5123]
8: باب تَحْرِيمِ الذَّبْحِ لِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَعْنِ فَاعِلِهِ:
باب: جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی تعظیم کے لیے جانور ذبح کرے وہ ملعون ہے اور ذبیحہ حرام ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ كلاهما، عَنْ مَرْوَانَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيْكَ، قَالَ: فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلَيَّ شَيْئًا يَكْتُمُهُ النَّاسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي بِكَلِمَاتٍ أَرْبَعٍ، قَالَ: فَقَالَ: مَا هُنَّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ ".
مروان بن معاویہ فزاری نے کہا: ہمیں منصور بن حیان نے حدیث بیان کی کہا: ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بیان کیا کہا: میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو رازداری سے کیا فرماتے تھے؟ آپ ناراض ہوئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی راز نہیں بتایا جس کو اور لوگوں سے چھپایا ہو۔ البتہ آپ نے مجھے چار باتیں ارشاد فرمائی تھیں۔ اس نے پوچھا: امیر المومنین! وہ کیا باتیں ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو شخص غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے اور جس شخص نے زمین (کی حد بندی) کا نشان بدلا اس پر اللہ لعنت کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5124]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ الْمَنَارَ ".
ابوخالد احمر سلیمان بن حیان نے منصور بن حیان سے انہوں نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی: کہا: ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے عرض کی، ہمیں کوئی ایسی چیز بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رازداری سے آپ کو بتائی ہو۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رازداری سے کوئی بات نہیں بتائی جو لوگوں سے چھپائی ہو البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا اس پر اللہ لعنت کرے۔ اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے کسی بدعتی کو پناہ دی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اپنے والدین پر لعنت کی اور اللہ اس پر لعنت کرے جس نے (زمین کی حد بندی کا) نشان تبدیل کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5125]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ أَبِي بَزَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ أَخَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ، كَافَّةً إِلَّا مَا كَانَ فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا، قَالَ: فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا ".
شعبہ نے کہا: میں نے قاسم بن ابی بزہ کو ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر کوئی چیز آپ کو عطا فرمائی؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی چیز خاص ہمارے لیے نہیں بتائی جو آپ نے تمام لوگوں میں عام نہ کی ہو۔ البتہ میری اس تلوار کی نیام میں کچھ احکام ہیں۔ پھر آپ نے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا ہوا تھا: ”جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی (حد بندی کی) نشانی چھپائے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5126]
← پچھلی کتاب #36 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #38 →