صحيح مسلم حدیث نمبر: 5103
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1971
📖 صحيح مسلم باب:35 حدیث نمبر : 40
Sahih Muslim 5103
کتاب #35: قربانی کے احکام و مسائل
5: باب بَيَانِ مَا كَانَ مِنَ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلاَثٍ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ وَبَيَانِ نَسْخِهِ وَإِبَاحَتِهِ إِلَى مَتَى شَاءَ:
باب: ابتدائے اسلام میں ، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے ممانعت اور اس کے منسوخ ہونے اور زائد از تین دن کھانے کی حلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمْرَةَ ، فَقَالَتْ: صَدَقَ, سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادَّخِرُوا ثَلَاثًا ثُمَّ تَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَ الْأَسْقِيَةَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ "، قَالُوا: نَهَيْتَ أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ: " إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا ".
عبد اللہ بن ابی بکر نے حضرت عبد اللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ( دن رات ) کے بعد قربانیوں کے گو شت کھا نے سے منع فر ما یا ۔ عبد اللہ بن ابی بکر نے کہا : میں نے یہ بات عمرہ ( بنت عبد الرحمان بن سعد انصار یہ ) کو بتا ئی عمرہ نے کہا : انھوں نے سچ کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بادیہ کے کچھ گھرانے ( بھوک اور کمزوری کے سبب ) آہستہ آہستہ چلتے ہو ئے جہاں لو گ قربانیوں کے لیے مو جو د تھے ( قربان گا ہ میں ) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تین دن تک کے لیے گو شت رکھ لو ۔ جو باقی بچے ( سب کا سب ) صدقہ کر دو ۔ " دوبارہ جب اس ( قربانی ) کا مو قع آیا تو لو گوں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لو گ تو اپنی قربانی ( کی کھا لوں ) سے مشکیں بنا تے ہی اور اس کی چربی پگھلا کر ان میں سنبھال رکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مطلب ؟ " انھوں نے کہا : یہ ( صورتحال ہم اس لیے بتا رہے ہیں کہ ) آپ نے منع فرما یا تھا کہ تین دن کے بعد قربانی کا گو شت ( وغیرہ استعمال نہ کیا جا ئے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں نے تو تمھیں ان خانہ بدوشوں کی وجہ سے منع کیا تھا جو اس وقت بمشکل آپا ئے تھے ۔ اب ( قربانی کا گو شت ) کھا ؤ رکھو اور صدقہ کرو ۔