📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام کتب ↗

كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ

شکار کرنے، ذبح کیے جانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جا سکتا ہے

کتاب #36 • کل احادیث: 92
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب الصَّيْدِ بِالْكِلاَبِ الْمُعَلَّمَةِ:
باب: سدہائے ہوئے کتوں سے شکار کرنے کا بیان۔
حدیث #4972 بین الاقوامی: 1929.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 1
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ، فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ "، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: " وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مَعَهَا "، قُلْتُ لَهُ: فَإِنِّي أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ الصَّيْدَ فَأُصِيبُ، فَقَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَصَابَهُ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْهُ ".
ہمام بن حارث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں ۔ وہ میرے لئے شکار کو قابو کرلیتے ہیں ۔ اور میں اس پر اللہ کا نام بھی لیتا ہوں ۔ ( بسم اللہ پڑھتا ہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھالو ۔ " میں نے کہا : خواہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواہ وہ شکار کو مارڈالیں ، جب تک کوئی اور کتا ، جو ان کے ساتھ نہیں ( بھیجا گیا ) ، اُن کے ساتھ شریک نہ ہوجائے ۔ " میں نے عرض کی : میں شکار کو موٹی لکڑی کے نوکدار بغیر پروں کے تیر کا نشان بناتا ہوں اور اسے مار لیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم بغیر پروں والا تیر مارو اور وہ اس کے جسم کو چھید دے ( خون نکل جائے ) تو اس کو کھالو اور اگر وہ اسے چوڑائی کی طرف سے نشانہ بنائے اور مارڈ الے تو مت کھاؤ ۔
حدیث #4973 بین الاقوامی: 1929.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 2
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: إِنَّا قَوْمٌ نَصِيدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، وَإِنْ قَتَلْنَ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ الْكَلْبُ، فَإِنْ أَكَلَ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَهَا كِلَابٌ مِنْ غَيْرِهَا فَلَا تَأْكُلْ ".
بیا ن نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا : " جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو جو ( شکار ) وہ تمھارے لئے پکڑیں چاہے وہ اسے ماردیں ، تم اسے کھالو ، الا یہ کہ کتا ( اس میں سے ) کچھ خود کھالے ۔ اگر وہ کھا لے تو تم نہ کھاؤ ۔ کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس نے اپنے لئے ( شکار ) پکڑا ہوگا ۔ اگر دوسرے کتے ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں تو مت کھاؤ ۔
حدیث #4974 بین الاقوامی: 1929.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 3
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ "، وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ "، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابی سفر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نےفرمایا : " جب اس نے اپنے ( چھیدنے والے ) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہوتو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر ماردیا ہو ۔ تووہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا ( شکار ) ہے ، اسے نہ کھاؤ ۔ " اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ( شکار پر ) اپناکتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو ، اگر کتے نے اس ( شکار ) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ ، کیونکہ کتے نے اس ( شکار ) کو اپنے لئے پکڑا ہے ۔ " میں نے کہا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟آپ نے فرمایا : " پھر تم نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی ۔
حدیث #4975 بین الاقوامی: 1929.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 4
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، يَقُولُ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ابن علیہ نے کہا : مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سےخبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوا ل کیا ، پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
حدیث #4976 بین الاقوامی: 1929.05 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 5
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، وَعَنْ نَاسٍ ذَكَرَ شُعْبَةُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے ، انھوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا ، شعبی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کےمتعلق سوا ل کیا ، اسی کے مانند ۔
حدیث #4977 بین الاقوامی: 1929.06 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 6
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ "، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: " مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلَا تَأْكُلْ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ ".
۔ عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے ، تو وہ وقیذ ہے ( یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے ) اس کو مت کھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے ، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لئے شکار کیا ۔ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی ۔
حدیث #4978 بین الاقوامی: 1929.07 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 7
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حدیث #4979 بین الاقوامی: 1929.08 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 8
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ، قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ ".
سعید بن مسروق نے کہا : شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نہرین ( کے قصبے ) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے و الے قریبی ساتھی تھے ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں ۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اورکتا بھی دیکھتاہوں کہ اس نے اس کو شکار کرلیا ہے ۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ ( اصل میں ) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا؛ " پھر تم ( اس کو ) مت کھاؤ ، کیونکہ تم نے اپنے کت پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے پر نہیں پڑھی ۔
حدیث #4980 بین الاقوامی: 1929.09 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 9
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مَحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
حکم نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث #4981 بین الاقوامی: 1929.1 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 10
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْرَكْتَهُ حَيًّا فَاذْبَحْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ وَقَدْ قَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَهُ، وَإِنْ رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجِدْ فِيهِ إِلَّا أَثَرَ سَهْمِكَ، فَكُلْ إِنْ شِئْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُ غَرِيقًا فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ ".
علی بن مسہرنے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " جب تم اپناکتا ( شکار پر ) چھوڑ وتو بسم اللہ پڑھو ، اور اگر وہ تمہارے لئے شکار کو جکڑ لے اور تم اس ( شکار ) کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کردو ، اور اگر تم شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو ۔ تواس کو بھی کھالو ، اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار ڈالا ہو ، تو اس کو نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم تیر مارو تو بسم اللہ پڑھو ، پھر اگرف ایک دن تک وہ ( شکار ) تمھیں نہ ملے ( بعد میں ملے ) اور تمھیں اس میں ا پنے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ملے تو تم چاہو تو اس کو کھالو ، اور اگر وہ تمھیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو مت کھاؤ ۔
حدیث #4982 بین الاقوامی: 1929.11 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 11
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ أَوْ سَهْمُكَ ".
عبداللہ بن مبارک نے کہا : ہمیں عاصم نے شعبی سے خگر دی ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تو اپنا ( شکاری ) کتا چھوڑے ، تو اللہ کا نام لے ( کر چھوڑ ) پھر اگر وہ تیرے شکار کو روک لے اور تو اس کو زندہ پائے ، تو اس کو ذبح کر اور اگر مار ڈالے اور کھائے نہیں ، تو تو اس کو کھا لے اور اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا جا چکا ہو ، تو اس کو مت کھا کیونکہ معلوم نہیں کس نے اس کو مارا ۔ اور جو تو اللہ کا نام لے کر تیر مارے پھر اگر تیرا شکار ( تیر کھا کر ) ایک دن تک غائب رہے ، اس کے بعد تو اس میں اپنے تیر کے سوا اور کسی مار کا نشان نہ پائے ، تو اگر تیرا جی چاہے تو اسے کھا لے اور اگر تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا ۔ کیونکہ تمھیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سےمرا ہے یا تمھارے تیر سے ۔
حدیث #4983 بین الاقوامی: 1930.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 12
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ أَوْ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ؟، قَالَ: " أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ ".
ابن مبارک نے حیوہ بن شریح سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی کو کہتے ہوئے سنا : مجھے ابو ادریس عائذ اللہ نے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب ( یعنی یہود یا نصاریٰ ) کے ملک میں رہتے ہیں ، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے ، تو میں اپنی کمان سے ، سکھائے ہوئے کتے اور اس کتے سے شکار کرتا ہوں جو سکھایا نہیں گیا ، تو مجھ سے وہ طریقہ بیان کیجئے جو کہ حلال ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے جو کہا کہ اہل کتاب کے ملک میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں ، تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو لو اور پھر ان میں کھاؤ ۔ اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے ، تو اسے کھا لے اور اگر تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے اور اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو کھا لے اور اگر ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پالے تو ذبح کر کے کھا لے ۔
حدیث #4984 بین الاقوامی: 1930.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 13
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ كِلَاهُمَا، عَنْ حَيْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ وَهْبٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ صَيْدَ الْقَوْسِ.
زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی ، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کاذکر نہیں کیا ۔
2: باب إِذَا غَابَ عَنْهُ الصَّيْدُ ثُمَّ وَجَدَهُ:
باب: شکار کے غائب ہونے کے بعد پھر مل جانے کے حکم کے بیان میں۔
حدیث #4985 بین الاقوامی: 1931.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 14
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ".
ابو عبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " جب تم ( شکارپر ) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم کو مل جائے تو کھالو جب تک بدبودار نہ ہو ۔
حدیث #4986 بین الاقوامی: 1931.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 15
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ".
معن بن عیسیٰ نے کہا : مجھے معاویہ نے عبدالرحمان بن جبیربن نفیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں ، جسے تین دن کے بعد اپنا شکار ملے ، روایت کی ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) " جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو ۔ " ( سخت ٹھنڈے علاقوں میں دیر تک صحیح سلامت رہے گا ۔)
حدیث #4987 بین الاقوامی: 1931.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 16
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ فِي الصَّيْدِ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْعَلَاءِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ نُتُونَتَهُ، وَقَالَ فِي الْكَلْبِ: كُلْهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ فَدَعْهُ.
محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علاء سے ، انہوں نے مکحول سے ، انہوں نے ابو ثعلبہ بن خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی ، پھر ابن حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر اورابو زاہریہ سے ، انہوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی ، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اورکتے ( کے شکار ) کے بارے میں فرمایا : " تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو ، لیکن اگر اس سے بد بوآئے تو اس کو چھوڑ دو ۔
3: باب تَحْرِيمِ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ:
باب: ہر کچلی والے درندے اور ہر پنجہ سے کھانے والے پرندے کی حرمت کا بیان۔
حدیث #4988 بین الاقوامی: 1932.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 17
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، قَالَ: " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ "، زَادَ إِسْحَاقُ، وَابْنُ أَبِي عُمَر َ، فِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى قَدِمْنَا الشَّامَ.
ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ادریس سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلیوں ( نوک دار دانت ) والے ہر درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ، اسحاق اور ابن ابی عمر نے ا پنی روایت میں یہ اضافہ کیا ۔ زہری نے کہا : شام میں آنے تک ہم نے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔
حدیث #4989 بین الاقوامی: 1932.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 18
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْحِجَازِ، حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ وَكَانَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الشَّامِ.
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ ابن شہاب زہری نے کہا : ہم نے حجاز میں اپنے علماء سے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔ یہاں تک کہ ابو ادریس نے ، جو شام کے فقہاء میں سے ہیں ، مجھے یہ حدیث بیان کی ۔
حدیث #4990 بین الاقوامی: 1932.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 19
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ".
عمرو بن حارث نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں اب ادریس خولانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ۔
حدیث #4991 بین الاقوامی: 1932.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 20
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمْ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَر . ٍ ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَعَمْرٍ وَكُلُّهُمْ ذَكَرَ الْأَكْلَ، إِلَّا صَالِحًا، وَيُوسُفَ، فَإِنَّ حَدِيثَهُمَا نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ.
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بن انس ، ابن ابی ذئب ، عمرو بن حارث ، یونس بن یزید وغیرہ نے اور معمر ، یوسف بن ماجثون اور صالح سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس اور عمرو کی حدیث کی مانند روایت کی ۔ سب نے کھانے کا ذکر کیاہے ۔ سوائے صالح اور یوسف کے ۔ ان دونوں کی حدیث یہ ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے در ندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
حدیث #4992 بین الاقوامی: 1933.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 21
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ فَأَكْلُهُ حَرَامٌ "،
عبدالرحمان بن مہدی نے مالک سے ، انھوں نے اسماعیل بن ابی حکیم سے ، انھوں نے عبیدہ بن سفیان سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا؛ " ہر کچلیوں والا درندہ اس کو کھانا حرام ہے ۔
حدیث #4993 بین الاقوامی: 1933.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 22
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن وہب نے کہا : مجھے امام مالک بن انس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث #4994 بین الاقوامی: 1934.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 23
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ".
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے ، انھوں نے میمون بن مہران سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور ناخنوں والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
حدیث #4995 بین الاقوامی: 1934.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 24
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سہل بن حماد نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث #4996 بین الاقوامی: 1934.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 25
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَأَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ ".
ابو عوانہ نے کہا : ہمیں حکیم اور ابو بشر نے میمون بن مہران سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنچوں سے شکار کرنے والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔
حدیث #4997 بین الاقوامی: 1934.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 26
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْر . ٍ ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ : أَخْبَرَنَا عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى. ح وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ.
ہشیم اور ابوعوانہ نے ابو بشر سے ، انہوں نے میمون بن مہران سے روایت کی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، حکم سے شعبہ کی روایت کردہ حدیث کے مانند ۔
4: باب إِبَاحَةِ مَيْتَاتِ الْبَحْرِ:
باب: دریا کے مردے کا مباح ہونا۔
حدیث #4998 بین الاقوامی: 1935.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 27
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً، قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِهَا؟، قَالَ: نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبِيُّ ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ، فَنَأْكُلُهُ، قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ، فَإِذَا هِيَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوا، قَالَ: فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْتَطِعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كَالثَّوْرِ أَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، فَلَقَدْ أَخَذَ مِنَّا أَبُو عُبَيْدَةَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَقْعَدَهُمْ فِي وَقْبِ عَيْنِهِ وَأَخَذَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَأَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ أَعْظَمَ بَعِيرٍ مَعَنَا، فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟، فَتُطْعِمُونَا "، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهُ.
ابو زبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی امارت میں قریش کے ایک قافلے کو ملنے ( یعنی ان کے پیچھے ) اور ہمارے سفر خرچ کے لئے کھجور کا ایک تھیلہ دیا اور کچھ آپ کو نہ ملا کہ ہمیں دیتے ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک ایک کھجور ( ہر روز ) دیا کرتے تھے ۔ ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم ایک کھجور میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو بچے کی طرح چوس لیا کرتے تھے ، پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے ، وہ ہمیں سارا دن اور رات کو کافی ہو جاتا اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے ، پھر ان کو پانی میں تر کرتے اور کھاتے تھے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو وہاں ایک لمبی اور موٹی سی چیز نمودار ہوئی ۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ مردار ہے ( یعنی حرام ہے ) ۔ پھر کہنے لگے کہ نہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم ( بھوک کی وجہ سے ) مجبور ہو چکے ہو تو اس کو کھاؤ ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے ۔ اس کا گوشت کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے کے گھڑے بھرتے تھے اور اس میں سے بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے ۔ آخر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا ، وہ سب اس کی آنکھ کے حلقے کے اندر بیٹھ گئے ۔ اور اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی اٹھا کر کھڑی کی ، پھر جو اونٹ ہمارے ساتھ تھے ، ان میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھی تو وہ اس کے نیچے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں سے زادراہ کے لئے وشائق بنا لئے ( وشائق ابال کر خشک کئے ہوئے گوشت کو کہتے ہیں ، جو سفر کے لئے رکھتے ہیں ) ۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رزق تھا جو اس نے تمہارے لئے نکالا تھا ۔ اب تمہارے پاس اس گوشت کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے اس کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھایا ۔
حدیث #4999 بین الاقوامی: 1935.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 28
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهَا حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَنَصَبَهُ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ جَمَلٍ، فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ فَمَرَّ تَحْتَهُ، قَالَ: وَجَلَسَ فِي حَجَاجِ عَيْنِهِ نَفَرٌ، قَالَ: وَأَخْرَجْنَا مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ كَذَا وَكَذَا قُلَّةَ وَدَكٍ، قَالَ: وَكَانَ مَعَنَا جِرَابٌ مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ " يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ ".
عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ ہمیں مہم پرروانہ فرمایا ، ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، ہمیں قریش کے قافلے کی گھات لگانا تھی ، ہم ( تقریباً ) آدھا مہینہ ساحل سمندر پر ٹھہرے رہے ، ہمیں شدید بھوک کا سامنا تھا ، حتیٰ کہ ہم نے درختوں سےجھاڑے ہوئے پتے کھائے اور اس لشکر کا نام " جھڑے ہوئے پتوں کا لشکر " پڑ گیا ، تو سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور نکال کر پھینکا جس کو عنبرکہا جاتاہے ۔ ہم نصف ماہ تک اس کو کھاتے اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا ، یہاں تک کہ ہمارے بدن اصل حالت میں لوٹ آئے ۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ایک پسلی ( پیٹھ کا کانٹا ) لے کر اسے نصب کرایا ، پھر لشکر میں سب سے لمبا آدمی اور سب سے اونچا اونٹ ڈھونڈا اور اس آدمی کو اس پر سوار کیا ، تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا ۔ اور اس ( عنبر ) کی آنکھ کے حلقے میں ایک جماعت بیٹھ گئی ۔ کہا : ہم نے اس کی آنکھ کےڈھیلے سے اتنے اتنے مٹکے چربی نکالی ۔ ( سفر کے آغاذ میں ) ہمارے ساتھ ایک بورا ( برابر ) کھجوریں تھیں ۔ ( پہلے ) ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں ایک ایک مٹھی کھجور دیتے تھے ، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے ۔ جب ( یہ بھی ملنا ) بند ہوگئیں تو ہم نے سمجھ لیا کہ وہ ختم ہوگئی ہیں ۔
حدیث #5000 بین الاقوامی: 1935.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 29
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ 140، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا ، يَقُولُ: " فِي جَيْشِ الْخَبَطِ إِنَّ رَجُلًا نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ثُمَّ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ ".
عمر و نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتوں و الے لشکر کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سناکہ ( جب زادراہ ختم ہوگیا تو ابتدا میں ) ایک دن ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو منع کردیا ( کہ سواری کے جانور ختم ہونے لگےتھے)
حدیث #5001 بین الاقوامی: 1935.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 30
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ أَزْوَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا ".
ہشام بن عروہ نے وہب بن کیسان سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( ایک مہم میں ) روانہ کیا ۔ اس وقت ہم تین سو تھے ، ہم نے اپنا اپنا زادراہ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہواتھا ۔ ( اور آخر میں سب کازاد راہ ملا کر ایک بورے کے برابر ہوا ۔)
حدیث #5002 بین الاقوامی: 1935.05 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 31
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ثَلَاثَ مِائَةٍ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، فَفَنِيَ زَادُهُمْ، فَجَمَعَ أَبُو عُبَيْدَةَ زَادَهُمْ فِي مِزْوَدٍ، فَكَانَ يُقَوِّتُنَا حَتَّى كَانَ يُصِيبُنَا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ ".
امام مالک بن انس نے ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو ایک لشکر بھیجا اور اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا امیر بنایا ، ان کا زاد راہ ختم ہونے کو آیا توحضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کے زادراہ کو زادراہ والے ایک تھیلے میں جمع کیا اور ہم کو زندہ رہنے کی خوراک دیتے تھے ، یہاں تک کہ آخر میں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی ۔
حدیث #5003 بین الاقوامی: 1935.06 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 32
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً أَنَا فِيهِمْ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ وَسَاقُوا جَمِيعًا بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ، كَنَحْوِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، فَأَكَلَ مِنْهَا الْجَيْشُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً.
ولید بن کثیر نے کہا : میں نے وہب بن کیسان کو کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی جانب ایک لشکر روانہ فرمایا ، میں بھی اس لشکر میں تھا ۔ جس طرح عمرو بن دینار اور ابو زبیر کی حدیث ہے ، البتہ وہب بن کیسان کی روایت میں ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دن تک اس ( بڑی مچھلی ) کا گوشت کھایا ۔
حدیث #5004 بین الاقوامی: 1935.07 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 33
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ كِلَاهُمَا، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ جُهَيْنَةَ وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنایا ، اور ( اس کے بعد ) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
5: باب تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الإِنْسِيَّةِ:
باب: بستی کے گدھوں کا گوشت حرام ہے۔
حدیث #5005 بین الاقوامی: 1407.06 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 34
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْحَسَنِ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ".
امام مالک بن انس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دو بیٹوں عبداللہ اورحسن سے ، ان دونوں نے اپنے والدسے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا ۔
حدیث #5006 بین الاقوامی: 1407.07 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 35
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ.
سفیان ، عبیداللہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور یونس کی حدیث میں ہے : اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے ( منع فرمادیا)
حدیث #5007 بین الاقوامی: 1936 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 36
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ ، قَالَ: " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ".
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت حرام کردیا ۔
حدیث #5008 بین الاقوامی: 561.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 37
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، وَسَالِمٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ".
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع اور سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانےسے منع فرمادیا ۔
حدیث #5009 بین الاقوامی: 561.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 38
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَمَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ يَوْمَ خَيْبَرَ وَكَانَ النَّاسُ احْتَاجُوا إِلَيْهَا ".
ابن جریج اور امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کےدن پالتو گدھے کاگوشت کھانے سے منع فرمادیا ، حالانکہ لوگوں کو ( بھوک کے سبب ) اس کی ( سخت ) ضرورت تھی ۔
حدیث #5010 بین الاقوامی: 1937.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 39
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَصَبْنَا لِلْقَوْمِ حُمُرًا خَارِجَةً مِنْ الْمَدِينَةِ، فَنَحَرْنَاهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: حَرَّمَهَا تَحْرِيمَ مَاذَا؟، قَالَ: تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: حَرَّمَهَا أَلْبَتَّةَ وَحَرَّمَهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ".
علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا ، انھوں نے کہا : خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، ہمیں ان لوگوں ( یہودیوں ) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے ۔ ہم نے ان کو ذبح کرلیا ، ہماری ہانڈیاں ( ان کے پکتے ہوئے گوشت سے ) ابل رہی تھیں کہ اچانک ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ ۔ میں نے پوچھا : آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا ( قطعی یاغیرقطعی؟ ) انھوں نے کہا : ( اس حوالے ) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہ ہم ( باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے ( انھیں ہمیشہ کے لئے ) حرام کیاتھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے ( خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)
حدیث #5011 بین الاقوامی: 1937.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 40
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ لَيَالِيَ خَيْبَر، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَر وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَانْتَحَرْنَاهَا، فَلَمَّا غَلَتْ بِهَا الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ اكْفَئُوا الْقُدُورَ وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا "، قَالَ: فَقَالَ نَاسٌ: إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ، وَقَالَ آخَرُونَ: نَهَى عَنْهَا أَلْبَتَّةَ.
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں سلیمانی شیبانی نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کاشکار ہوگئے ۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے جب ہماری ہانڈیاں ان کے گوشت ابلنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹ دو ، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ۔ اس وقت بعض لوگوں ( صحابہ ) نے کہا کہ ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطعی طور پر منع کیا ہے ۔
حدیث #5012 بین الاقوامی: 1938.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 41
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يقولان: " أَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْفَئُوا الْقُدُورَ ".
عدی بن ثابت نے کہا : میں نے حضرت براء اورحضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ ہم نے گدھے پکڑے ۔ ان کو پکانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ( ان ) ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
حدیث #5013 بین الاقوامی: 1938.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 42
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ الْبَرَاءُ : " أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ ".
ابو اسحاق نے کہا : حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کے دن ہم نے گدھے پکڑ لیے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو ۔
حدیث #5014 بین الاقوامی: 1938.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 43
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " نُهِينَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّة ".
ثابت بن عبید نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں پالتو گدھوں کے گوشت ( کھانے ) سے منع کردیا گیا ۔
حدیث #5015 بین الاقوامی: 1938.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 44
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ ".
جریر نے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پالتو گدھوں کا گوشت پھینک دیں ، کچا ہو یا پکا ہوا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہمیں ان کو کھانے کی اجازت نہیں دی ۔
حدیث #5016 بین الاقوامی: 1938.05 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 45
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث #5017 بین الاقوامی: 1939 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 46
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَا أَدْرِي إِنَّمَا " نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مجھے پتہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( پالتو گدھوں کا گوشت کھانے ) سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کے بوجھ اٹھانے والے ہیں اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہوجائے یا آپ نے ( ویسے ہی ) جنگ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کوحرام قرار دیا ۔ ( یعنی ایسی کسی خاص مناسبت کے بغیر ، جب دیکھا کہ لوگ اسے کھانا چاہتے ہیں تو اس کی حرمت کا اعلان کرادیا ۔)
حدیث #5018 بین الاقوامی: 1802.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 47
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْماعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ؟ "، قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ، قَالَ: " عَلَى أَيِّ لَحْمٍ؟ "، قَالُوا: عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا "، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا، قَالَ: أَوْ ذَاكَ.
حاتم بن اسماعیل نے یزید بن ابی عبید سے ، انھوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے دن نکلے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خیبر فتح کردیا ۔ جس دن فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے بہت آگ جلائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کیسی آگ ( جل رہی ) ہے؟تم کس چیز پر ( کیا پکانے کے لیے ) آگ جلارہے ہو؟ " لوگوں نے کہا : گوشت پر ۔ آپ نے پوچھا؛ " کون سے گوشت پر؟ " لوگوں نے کہا : پالتو گدھوں کے گوشت پر ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہانڈیاں الٹ دو اور ان کو توڑ دو ۔ " ایک شخص نے عرض کی : ( آپ اجازت دیں تو ) ہم ہانڈیاں انڈیل دیں اور انھیں دھولیں؟ آپ نے فرمایا : " یا اس طرح کرلو ۔
حدیث #5019 بین الاقوامی: 1802.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 48
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْر ِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ كُلُّهُمْ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
حماد بن مسعدہ ، صفوان بن عیسیٰ اور ابو عاصم نبیل سب نے یزید بن ابی عبید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
حدیث #5020 بین الاقوامی: 1940.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 49
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَطَبَخْنَا مِنْهَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَا إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْهَا، فَإِنَّهَا رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِمَا فِيهَا ".
ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر فتح کر لیا تو ہم نے بستی سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ لیے اور ان کا گو شت پکا نے لگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلا ن کر دیا : سنو!اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ان ( گدھوں کا گوشت پکا نے ، کھانے ) سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ نجس ہے اور شیطان کا عمل ہے ۔ پھر ہانڈیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا جبکہ وہ اس کے ساتھ ابل رہی تھیں ۔
حدیث #5021 بین الاقوامی: 1940.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 50
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ جَاءَ جَاءٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُكِلَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ، فَنَادَى " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ أَوْ نَجِسٌ، قَالَ: فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا ".
۔ ہشا م بن حسان نے محمد بن سیرین سے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن خیبر کی جنگ ہو ئی ایک آنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !گدھے کھا لیے گئے ، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے ختم کر دیے گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم کو پالتو گدھوں کا گو شت کھا نے سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہ پلید ہیں یا ( فرما یا ) ناپاک ہیں ۔ کہا : پھر ہانڈیاں اس سب کچھ سمیت جو ان میں تھا الٹ دی گئیں ۔
6: باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ:
باب: گھوڑوں کا گوشت حلال ہے۔
حدیث #5022 بین الاقوامی: 1941.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 51
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ ".
محمد بن علی نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتوگدھوں کا گوشت کھا نے سے منع فر ما یا اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت عطاکی ۔
حدیث #5023 بین الاقوامی: 1941.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 52
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ، " وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ ".
محمد بن بکر نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبردی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں ( گورخر زبیرا ) اور گھوڑوں کا گو شت کھا یا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پالتو گدھے کے گو شت سے منع فر ما دیا ۔
حدیث #5024 بین الاقوامی: 1941.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 53
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابن وہب اور ابو عاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
حدیث #5025 بین الاقوامی: 1942.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 54
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ ".
عبد اللہ بن نمیر ، حفص بن غیاث اور وکیع نے ہشام سے ، انھوں نے ( اپنی اہلیہ ) فاطمہ سے ، انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے ( پکا کر ) کھا یا ۔
حدیث #5026 بین الاقوامی: 1942.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 55
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابو معاویہ اور ابو اسامہ دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
7: باب إِبَاحَةِ الضَّبِّ:
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے (یعنی سوسمار کا)۔
حدیث #5027 بین الاقوامی: 1943.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 56
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ: " لَسْتُ بِآكِلِهِ وَلَا مُحَرِّمِهِ ".
عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو نہ حرام کرتا ہوں ۔
حدیث #5028 بین الاقوامی: 1943.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 57
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ، فَقَالَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ ".
لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " نہ میں اس کو کھاتا ہوں ، نہ حرا م کرتا ہوں ۔
حدیث #5029 بین الاقوامی: 1943.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 58
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ، فَقَالَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ ".
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو ں نہ حرا م کرتاہوں ۔
حدیث #5030 بین الاقوامی: 1943.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 59
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
یحییٰ نے عبید اللہ سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث #5031 بین الاقوامی: 1943.05 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 60
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الضَّبِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ أَيُّوبَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَلَمْ يَأْكُلْهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهُ، وَفِي حَدِيثِ أُسَامَةَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
ایوب ، مالک بن مغول ، ابن جریج ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے بارے میں نافع سے روایت کردہ لیث کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ، البتہ ایوب کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا ( پکا کر ) لایا گیا تو آپ نے اسے کھا یا نہ حرام قرار دیا ۔ اسامہ کی حدیث میں کہا : ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ۔
حدیث #5032 بین الاقوامی: 1944.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 61
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ سَعْدٌ وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ، فَنَادَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا فَإِنَّهُ حَلَالٌ وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي ".
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ ان میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ اتنے میں سانڈے کا گو شت لا یا گیا : اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے یہ آواز دی کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کھاؤ ، بلا شبہ حلال ہے لیکن یہ میرے کھانے میں ( شامل ) نہیں ۔
حدیث #5033 بین الاقوامی: 1944.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 62
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ : أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَاعَدْتُ ابْنَ عُمَر قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا، قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سَعْدٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذ.
محمدبن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : شعبی نے مجھ سے کہا : تم حسن ( بصری ) کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ ( مرسل ) حدیث دیکھی ( سنی اور لکھی ہو ئی دیکھی ، اور اس کے مرسل ہونے پر غور کیا؟ ) میں تو حضرت ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ڈیڑھ یا دوسال تک ( اٹھتا ) بیٹھتا رہا لیکن میں نے انھیں اس حدیث کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی اور حدیث روایت کرتے ہو ئے نہیں سنا ۔ انھوں نے ( اس طرح ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بہت سے لو گ ( مو جودتھے ) ان میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے ۔ معاذ کی حدیث کے مانند ۔
حدیث #5034 بین الاقوامی: 1945.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 63
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيد مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ "، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا لا یا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا قصد کیا ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا دو ، ( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہو تا ، اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں ۔ "" حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔
حدیث #5035 بین الاقوامی: 1946.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 64
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ جميعا، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ "، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي.
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنھیں سیف اللہ کہا جا تا ہے ، انھیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گئے وہ ان ( حضرت خالد ) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ تھیں ۔ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھنا ہوا سانڈا دیکھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ۔ انھوں نے وہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ایسا کم ہو تا کہ آپ کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا تے یہاں تک کہ آپ کو اس کے بارے میں بتا یا جا تا اور آپ کے سامنے اس کا نام لیا جا تا ۔ ( اس روز ) آپ نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھانا چا ہا تو وہاں مو جود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ آپ لوگوں نے انھیں کیا پیش کیا ہے ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سانڈا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ اوپر کر لیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہو تا ، میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پا تا ہوں ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں فر ما یا ۔
حدیث #5036 بین الاقوامی: 1946.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 65
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنِي، وقَالَ أَبُو بَكْر ٍ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِث وَهِيَ خَالَتُهُ، فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ جَاءَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حَجْرِهَا.
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان سے بیان کیا کہ انھیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ حضرت میمونہ بنت حا رث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہا ں گئے ، وہ ان کی خالہ تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گو شت پیش کیا گیا ، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کو ئی چیز تناول نہ فر ما تے تھے ۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ۔ پھر انھوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضا فہ کیا اور انھیں ( یزید ) ابن اصم نے ( بھی ) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) حدیث سنائی ، انھوں نے ان ( میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے ہاں پرورش پا ئی ۔ ( ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔)
حدیث #5037 بین الاقوامی: 1945.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 66
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ.
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبھنے ہو ئے سانڈے پیش کیے گئے جبکہ ہم سب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں مو جو دتھے ان سب کی حدیث کے مانند انھوں نے ( معمر ) نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کردہ یزید بن اصم کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث #5038 بین الاقوامی: 1945.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 67
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيد ِ بِلَحْمِ ضَبٍّ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
ابن منکدر سے روایت ہے کہ ابو امامہ بن سہل نے انھیں بتا یا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت لا یا گیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف فر ما تے اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مو جود تھے پھر زہری کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
حدیث #5039 بین الاقوامی: 1947 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 68
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَهْدَتْ خَالَتِي أَمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، " فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا، مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فر ما یا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہو ئے چھوڑدیا ۔ یہ ( سانڈ ا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھا یا گیا ۔ اگر یہ حرام ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھا یا جا تا ۔
حدیث #5040 بین الاقوامی: 1948 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 69
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ: دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا، فَآكِلٌ وَتَارِكٌ، فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى، قَالَ بَعْضُهُمْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَى إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خُوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ، فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ، قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَكَفَّ يَدَهُ، وَقَالَ: " هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ "، وَقَالَ لَهُمْ: كُلُوا، فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْمَرْأَةُ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَيْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شیبانی نے یزید بن اصم سے روایت کی ، کہا : مدینہ منورہ میں ایک دلھا نے ہماری دعوت کی اور ہمیں تیرہ عدد ( بھنے ہو ئے ) سانڈے پیش کیے ۔ کو ئی ( اس کو ) کھا نے والا تھا کو ئی نہ کھا نے والا ۔ دوسرے دن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو یہ بات بتا ئی ۔ ان کے اردگرد مو جود لوگوں نے بہت سی باتیں کیں حتی کہ کسی نے یہ بھی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ روکتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ " اس پر حضرت ابن عباس نے کہا : تم لو گوں نے جو کہا ناروا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ نے جو نبی بھیجا وہ حلال کرنے والا اور حرام کرنے والا تھا ( حلت و حرمت کے حکم کو واضح کرنے والا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم سمجھ رہے ہو ۔ غیر واضح بات نہیں کرتے تھے ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ کے قریب فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ایک اور خاتون بھی مو جود تھی تو ان کے سامنے دسترخوان لا یا گیا جس پر گوشت تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یہ سانڈے کا گو شت ہے آپ نے ہاتھ روک لیا اور فر ما یا : " یہ ایسا گو شت ہے جو میں نے کبھی نہیں کھا یا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا : " کھاؤ ۔ سو اس گوشت میں سے فضل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس خاتون نے کھا یا ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں تو صرف اس کھا نے میں سے کھا ؤں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا ئیں گے ۔
حدیث #5041 بین الاقوامی: 1949 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 70
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَقَالَ: " لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ ".
ابو زبیر نے حضرت جا بت بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈ الا یا گیا ۔ آپ نے اسے کھا نے سے انکا ر کیا اور فرما یا : " میں نہیں جا نتا کہ شاید یہ ( سانڈا بھی ) ان قوموں میں سے ہو جن میں مسخ ہوا تھا ۔
حدیث #5042 بین الاقوامی: 1950 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 71
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ: لَا تَطْعَمُوهُ وَقَذِرَهُ، وَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ ".
ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : اسے مت کھاؤ ۔ اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے ( بھی ) کو نفع پہنچاتا ہے ، یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید کہا : ) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا ۔
حدیث #5043 بین الاقوامی: 1951.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 72
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ فَمَا تُفْتِينَا؟ قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ، فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
داود نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟یا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایاگیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت ( بڑی جماعت ) مسخ کر ( کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر ) دی گئی تھی ۔ "" ( اس کے بعد ) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا ۔ حضرت ابوسعید ( خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : پھر بعد کا عہد آیا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے ۔ یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ، اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا ۔ ( اسے حرام قرار نہیں دیا تھا ۔)
حدیث #5044 بین الاقوامی: 1951.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 73
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي، قَالَ: فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقُلْنَا: عَاوِدْهُ فَعَاوَدَهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ يَا أَعْرَابِيُّ: " إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا فَلَسْتُ آكُلُهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا ".
ابوعقیل دورقی نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے ۔ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا ، ہم نے اس سے کہا : دوبارہ عرض کرو ، اس نے دوبارہ عرض کی ، مگر آپ نے تین بار ( دہرانے پر بھی ) کوئی جواب نہ دیا ، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا : " اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کردیا ۔ مجھے علم نہیں ، شاید یہ انھی جانوروں میں سے ہو ، ( جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا ) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں ۔
8: باب إِبَاحَةِ الْجَرَادِ:
باب: ٹڈی کھانا درست ہے۔
حدیث #5045 بین الاقوامی: 1952.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 74
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ ".
ابو عوانہ نے ابو یعفور سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شامل ہوئے ( جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے رہے ۔
حدیث #5046 بین الاقوامی: 1952.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 75
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وقَالَ إِسْحَاقُ: سِتَّ، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: سِتَّ أَوْ سَبْعَ.
ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ابن عینیہ سے ، انھوں نے ابو یعفور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی ۔ ابو بکر نے اپنی روایت میں "" سات جنگیں "" کہا ، اسحاق نے "" چھ "" اور ابن ابی عمر نے "" چھ یا سات "" کہا ۔
حدیث #5047 بین الاقوامی: 1952.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 76
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ.
شعبہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی اور انھوں نے " سات غزوات " کہا ۔
9: باب إِبَاحَةِ الأَرْنَبِ:
باب: خرگوش حلال ہے۔
حدیث #5048 بین الاقوامی: 1953.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 77
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَرَرْنَا فَاسْتَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَوْا عَلَيْهِ فَلَغَبُوا، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَدْرَكْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ ".
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم جا رہے تھے کہ ( مقام ) مرالظہران میں ایک خرگوش دیکھا تو اس کا پیچھا کیا ۔ پہلے لوگ اس پر دوڑے لیکن تھک گئے پھر میں دوڑا تو میں نے پکڑ لیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ۔ انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا پٹھ اور دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۔ میں لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لے لیا ۔
حدیث #5049 بین الاقوامی: 1953.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 78
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بِوَرِكِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا.
یحییٰ بن یحییٰ اور خالد بن حارث دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، یحییٰ کی حدیث میں : " اس کا پچھلا حصہ یا اس کی دونوں رانوں " کے الفاظ ہیں ۔
10: باب إِبَاحَةِ مَا يُسْتَعَانُ بِهِ عَلَى الاِصْطِيَادِ وَالْعَدُوِّ وَكَرَاهَةِ الْخَذْفِ:
باب: شکار کے لیے اور دوڑنے کے لیے جو سامان ضروری ہو وہ درست ہے لیکن چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینکنا درست ہے۔
حدیث #5050 بین الاقوامی: 1954.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 79
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: " لَا تَخْذِفْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ، أَوَ قَالَ: يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ، فَإِنَّهُ لَا يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ وَلَا يُنْكَأُ بِهِ الْعَدُوُّ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَهُ: أُخْبِرُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ أَوْ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا "،
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے ( کسی چیز کو ) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا : کنکر سے نشانہ مت بناؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے ۔ یا کہا ۔ کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے ، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جاسکتا ہے ۔ نہ دشمن کو ( پیچھے ) دھکیلا جاسکتاہےیہ ( صرف ) دانت توڑتاہے یا آنکھ پھوڑتا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا : میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا ( کہا : ) آپ اس سے منع فرماتے تھے ، پھر میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو!میں اتنا اتنا ( عرصہ ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا ( بات تک نہ کروں گا)
حدیث #5051 بین الاقوامی: 1954.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 80
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَد ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں کہمس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
حدیث #5052 بین الاقوامی: 1954.03 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 81
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ "، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ، وَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَلَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ وَلَكِنَّهُ يَكْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ، وقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: إِنَّهَا لَا تَنْكَأُ الْعَدُوَّ وَلَمْ يَذْكُرْ تَفْقَأُ الْعَيْنَ.
محمد بن جعفر اورعبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے عقبہ بن صہیان سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ۔ ابن جعفر نے اپنی روایت میں یہ بیا ن کیا کہ آپ نے فرمایا؛ " یہ نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، نہ شکار مارتا ہے ، بس دانت توڑتا ہے اورآنکھ پھوڑتاہے ۔ " اور ابن مہدی نے ( اپنی روایت میں ) کہا؛ " یہ ( کنکر ، روڑا ) دشمن کو ہلاک نہیں کرتا " ( انھو ں نے ) آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث #5053 بین الاقوامی: 1954.04 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 82
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ، قَالَ: فَنَهَاهُ، وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ "، قَالَ: فَعَادَ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ ثُمَّ تَخْذِفُ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی قریبی شخص نے کنکر سے نشانہ لگایا ۔ انھوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر کے ساتھ نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ نہ کسی جانور کو شکارکرتاہے ، نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، البتہ یہ دانت توڑتاہے ۔ اور آنکھ پھوڑتا ہے ۔ " ( سعیدنے ) کہا : اس شخص نے دوبارہ یہی کیا تو حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے تم کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر کنکر ماررہے ہو!میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔
حدیث #5054 بین الاقوامی: 1954.05 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 83
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
11: باب الأَمْرِ بِإِحْسَانِ الذَّبْحِ وَالْقَتْلِ وَتَحْدِيدِ الشَّفْرَةِ:
باب: ذبح یا قتل اچھی طرح کرنا چاہیئے اور چھری کو تیز کر لینا چاہیئے۔
حدیث #5055 بین الاقوامی: 1955.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 84
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ".
اسماعیل بن علیہ نے خالد حذا ء سے ، انھوں نے ابوقلابہ سے ، انھوں نے ابو اشعث سے اور انھوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس لئے جب تم ( قصاص یاحد میں کسی کو ) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو ، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ، تم میں سے ایک شخص ( جو ذبح کرنا چاہتا ہے ) وہ اپنی ( چھری کی ) دھار کو تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے ۔
حدیث #5056 بین الاقوامی: 1955.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 85
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ.
ہشیم ، عبدالوہاب ثقفی ، شعبہ ، سفیان اور منصور ، سب نے خالد حذا ء سے ابن علیہ کی سند سے اور اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔
12: باب النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ:
باب: جانوروں کو باندھ کر مارنا منع ہے۔
حدیث #5057 بین الاقوامی: 1956.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 86
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ ".
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے ہاں آیا ، وہاں کچھ لوگ تھے ، انھوں نے ایک مرغی کو باندھ کر حدف بنایا ہوا تھا ( اور ) اس پر تیر اندازی کی مشق کررہے تھے ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر مارا جائے ۔
حدیث #5058 بین الاقوامی: 1956.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 87
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن مہدی ، خالد بن حارث اورابو اسامہ ، سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ۔
حدیث #5059 بین الاقوامی: 1957.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 88
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا ".
عبیداللہ کے والد معاذ ( عنبری ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی ( بن ثابت انصاری ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی روح والی چیز کو ( نشانہ بازی کا ) ہد ف مت بناؤ ۔
حدیث #5060 بین الاقوامی: 1957.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 89
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سندکے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیا ن کی ۔
حدیث #5061 بین الاقوامی: 1958.01 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 90
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي كَامِلٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِنَفَرٍ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَتَرَامَوْنَهَا، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا ".
ابو عوانہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چند لوگوں کے قریب سے گزرا سے گزرا ہوا جو ایک مرغی کو سامنے باندھ کر اس پر تیر اندازی کررہے تھے ، جب انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کرمنتشر ہوگئے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ کام کس کا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ایسا کام کرے ۔
حدیث #5062 بین الاقوامی: 1958.02 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 91
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَر بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ لَعَنِ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا ".
ہشیم نے کہا : ہمیں ابو بشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : ( ایک بار ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے چند جوان کے قریب سے گزرے جو ایک پرندے کو باندھ کر اس پرتیرا اندازی کی مشق کررہے تھے اور انھوں نے پرندے والے سے ہر چوکنے والے نشانے کے عوض کچھ دینے کا طے کیا ہواتھا ۔ جب انھوں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو منتشر ہوگئے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ کام کس کاہے؟جو شخص اس طرح کرے اللہ کی اس پر لعنت ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پرلعنت کی ہے جو کسی ذی روح کو تختہء مشق بنائے ۔
حدیث #5063 بین الاقوامی: 1959 📖 صحيح مسلم باب:34 حدیث نمبر : 92
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا ".
یحییٰ بن سعید ، محمد بن بکیر اور حجاج بن محمد نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں میں سے کسی بھی چیز کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
← پچھلی کتاب #35 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #37 →