صحيح مسلم حدیث نمبر: 5062
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1958.1
Sahih Muslim 5062
کتاب #34: شکار کرنے، ذبح کیے جانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جا سکتا ہے
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَر بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ لَعَنِ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا ".
ہشیم نے کہا: ہمیں ابوبشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: (ایک بار) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ قریش کے چند جوان کے قریب سے گزرے جو ایک پرندے کو باندھ کر اس پر تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے اور انہوں نے پرندے والے سے ہر چوکنے والے نشانے کے عوض کچھ دینے کا طے کیا ہوا تھا۔ جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو منتشر ہو گئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کام کس کا ہے؟ جو شخص اس طرح کرے اللہ کی اس پر لعنت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو کسی ذی روح کو تختہء مشق بنائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5062]