صحيح مسلم حدیث نمبر: 5069
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1961
Sahih Muslim 5069
کتاب #35: قربانی کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ؟ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ، فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا وَلَا تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ".
مطرف نے عامر (شعبی) سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے ماموں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت کی ایک (عام) بکری ہے (قربانی کی نہیں۔)“ انہوں (حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی کر دو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے (کھانے کے) لیے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قربانی مکمل ہو گئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پالیا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5069]