كِتَاب الطَّهَارَةِ
کتاب #2: طہارت کے احکام و مسائل
|
1: باب فَضْلِ الْوُضُوءِ:
باب: وضو کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا".
حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ ’الحمد لله‘ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ ’سبحان الله‘ اور ’الحمد لله‘ آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے۔ صدقہ دلیل ہے۔ صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے۔ ہر انسان جب دن کا آغاز کرتا ہے تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو وہ خود کو آزاد کرنے والا ہوتا ہے یا خود کو تباہ کرنے والا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 534]
|
|
|
2: باب وُجُوبِ الطَّهَارَةِ لِلصَّلاَةِ:
باب: نماز کے لئے طہارت کا ہونا ضروری ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَلَى ابْنِ عَامِرٍ، يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ، وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ ".
ابوعوانہ نے سماک بن حرب سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے۔ ابن عامر نے کہا: ’اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گے؟‘ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتا۔“ اور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں (مبادا کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہو)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 535]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ . ح قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ كُلُّهُمْ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
شعبہ، زائدہ اور اسرائیل سب نے سماک بن حرب سے اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 536]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ، حَتَّى يَتَوَضَّأَ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں سنائیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث کا تذکرہ کیا، ان میں سے یہ بھی تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی بے وضو ہو جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ وضو کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 537]
|
|
|
3: باب صِفَةِ الْوُضُوءِ وَكَمَالِهِ:
باب: وضو کی ترکیب اور اس کے پورا کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ عُلَمَاؤُنَا، يَقُولُونَ: هَذَا الْوُضُوءُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلَاةِ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران، جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، نے انہیں بتایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا تو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور (ناک میں پانی ڈال کر) ناک جھاڑی، پھر تین بار چہرہ دھویا، پھر تین بار دایاں بازو کہنیوں تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں بازو دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں، ان دونوں کے دوران اپنے آپ سے باتیں نہ کیں، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ ابن شہاب نے کہا: ہمارے علماء (تابعین) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کے لیے کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 538]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ ، " دَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ".
یعقوب کے والد ابراہیم (بن سعد) نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سند کے ساتھ حمران سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے پانی کا برتن منگوایا، پھر اپنے ہاتھوں پر تین بار پانی انڈیلا اور ان کو دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور (ناک میں پانی ڈال کر) ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور تین بار اپنے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے، پھر سر کا مسح کیا، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا جس طرح میں نے اب کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں وہ اپنے آپ سے باتیں نہ کر رہا تھا، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 539]
|
|
|
4: باب فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلاَةِ عَقِبَهُ:
باب: وضو کی اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ لآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، وَهُوَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: " وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا، لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، فَيُصَلِّي صَلَاةً، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا "،
جریر نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ مسجد کے آنگن میں تھے اور عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا، وضو کیا، پھر فرمایا: ’اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں، اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا۔‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو مسلمان وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 540]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ.
ہشام سے (جریر کے بجائے) ابواسامہ، وکیع اور سفیان کی سندوں سے بھی یہ روایت بیان کی گئی۔ ان میں ابواسامہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں: ”اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 541]
|
|
|
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ، عَنْ حُمْرَانَ ، أَنَّهُ قَالَ: " فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا "، قَالَ عُرْوَةُ الآيَةُ: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى إِلَى قَوْلِهِ اللَّاعِنُونَ سورة البقرة آية 159.
ابن شہاب نے کہا: لیکن عروہ، حمران کی جانب سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کر لیا تو فرمایا: ’اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث ضرور سناؤں گا، اللہ کی قسم! اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث نہ سناتا۔‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں۔“ عروہ نے کہا: وہ آیت (جس کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا): ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ﴾ سے لے کر ﴿اللَّاعِنُونَ﴾ تک ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 542]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ عَبد، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا، وَخُشُوعَهَا، وَرُكُوعَهَا، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ ".
اسحاق بن سعید نے عمرو بن سعید بن عاص سے، انہوں نے اپنے والد (سعید بن عمرو) سے اور انہوں نے اپنے والد (عمرو بن سعید) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے وضو کا پانی منگایا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے، اور یہ بات ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 543]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: " أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ: أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ.
ابن عبدہ کی روایت میں ہے: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے وضو کیا۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے کہا: ہمیں عبدالعزیز دراوردی نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس وضو کا پانی لایا تو انہوں نے وضو کیا، پھر کہا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں جن کی حقیقت میں نہیں جانتا، مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: ”جس نے اس طریقے سے وضو کیا، اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانا زائد (ثواب کا باعث) ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 544]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، وَأَبُو بَكْرِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ، فَقَالَ: " أَلَا أُرِيكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا "، وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَبُو النَّضْرِ: عَنْ أَبِي أَنَسٍ، قَالَ: وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: (اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کے ہیں) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابونضر سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوانس سے روایت کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے المقاعد کے پاس وضو کیا، پھر کہا: ’کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو (کر کے) نہ دکھاؤں؟‘ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: سفیان نے کہا: ابونضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا: ان (عثمان رضی اللہ عنہ) کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 545]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، قَالَ: كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ، إِلَّا وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً، وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلَاتِنَا هَذِهِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهَا الْعَصْرَ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ، أَوْ أَسْكُتُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ، فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا ".
مسعر نے ابوصخرہ جامع بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا (پانی) اپنے اوپر نہ بہا لیتے (ہلکا سا غسل نہ کر لیتے)۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے (مسعر کا قول ہے: میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟“ ہم نے عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اسے مکمل طریقے سے کرتا ہے، پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 546]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى، فَالصَّلَوَاتُ الْمَكْتُوبَاتُ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ "، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ، وَلَا ذِكْرُ الْمَكْتُوبَاتِ.
عبیداللہ بن معاذ نے اپنے والد سے اور محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے محمد بن جعفر (غندر) سے روایت کی، ان دونوں (معاذ بن معاذ اور محمد بن جعفر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے جامع بن شداد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ بشر بن مروان کے دورِ امارت میں اس مسجد میں حضرت ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کو مکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو (اس کی) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے۔“ یہ عبیداللہ بن معاذ کی روایت ہے، غندر کی حدیث میں بشر بن مروان کے دورِ حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے। [صحيح مسلم/حدیث: 547]
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: " تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمًا، وُضُوءًا حَسَنًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، غُفِرَ لَهُ مَا خَلَا مِنْ ذَنْبِهِ ".
بکیر بن عبداللہ (مخرمہ کے والد) نے حمران (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے بہت اچھی طرح وضو کیا، پھر فرمایا: ”جس نے اس طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف نکلا، نماز ہی نے اسے (جانے کے لیے) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 548]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ، أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ ".
معاذ بن عبدالرحمن نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی، پھر فرض نماز کے لیے چل کر گیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 549]
|
|
|
5: باب الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْكَبَائِرُ.
باب: بیان ہے کہ پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں جو ان کے درمیان میں کیے جائیں اگر کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ كلهم، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلاةُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ، مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ ".
علاء نے اپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور (ہر) جمعہ (دوسرے) جمعہ تک اور (ہر) رمضان (دوسرے) رمضان تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 550]
|
|
|
حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ ".
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ (دوسرے) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 551]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاق مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ".
اسحاق بن عبداللہ (عمر بن اسحاق کے والد) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”جب (انسان) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں، ایک جمعہ (دوسرے) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 552]
|
|
|
6: باب الذِّكْرِ الْمُسْتَحَبِّ عَقِبَ الْوُضُوءِ:
باب: وضو کے بعد کیا پڑھنا چاہیے۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الإِبِلِ، فَجَاءَتْ نَوْبَتِي، فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَجْوَدَ هَذِهِ؟ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ، يَقُولُ: الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا عُمَرُ ، قَالَ: إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا، قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُبْلِغُ، أَوْ فَيُسْبِغُ الْوَضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ،
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں معاویہ بن صالح نے ربیعہ بن یزید کے حوالے سے ابوادریس خولانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اسی طرح (معاویہ نے) کہا: مجھے ابوعثمان نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا، میری باری آئی، تو میں شام کو انہیں چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے، مجھے آپ کی یہ بات (سننے کو) ملی: ”جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“ میں نے کہا: ’کیا خوب بات ہے یہ!‘ تو میرے سامنے ایک شخص کہنے لگا: ’اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔‘ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: ’میں نے دیکھا ہے کہ تم ابھی آئے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے پہلے) فرمایا تھا: ”تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے (یا اچھی طرح وضو کرے) پھر یہ کہے: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جس سے چاہے داخل ہو جائے۔“‘ [صحيح مسلم/حدیث: 553]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، وَأَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرِ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ".
زید بن حباب نے معاویہ بن صالح سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد پچھلی روایت کے الفاظ ہیں، البتہ انہوں نے (اس طرح) کہا: ”جس نے وضو کیا اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 554]
|
|
|
7: باب فِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: " تَوَضَّأْ لَنَا وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ، فَأَكْفَأَ مِنْهَا عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَهَا فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، مَرَّتَيْنِ، مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَهَا، فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
خالد بن عبداللہ نے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے، انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی (انہیں شرف صحبت حاصل تھا)، (یحییٰ بن عمارہ نے) کہا: حضرت عبداللہ بن زید سے کہا گیا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کر کے دکھائیں۔ اس پر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا، اسے جھکا کر اس میں سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا اور انہیں تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی کھینچا، یہ تین بار کیا، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے بازو کہنیوں تک دو دو بار دھوئے، پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں ہاتھ (سر پر) آگے سے پیچھے کو اور پیچھے سے آگے کو لائے، پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 555]
|
|
|
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: الْكَعْبَيْنِ.
(خالد بن عبداللہ کے بجائے) سلیمان بن بلال نے عمرو بن یحییٰ سے باقی ماندہ پچھلی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی، اس میں ”ٹخنوں تک“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 556]
|
|
|
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: فَأَقْبَلَ بِهِمَا، وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، وَغَسَلَ.
مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا: انہوں نے تین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی۔ انہوں نے ”ایک ہی چلو سے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور ”دونوں ہاتھ آگے سے (پیچھے کو) لائے اور پیچھے سے (آگے کو) لائے“ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے: انہوں نے سر کے اگلے حصے سے (مسح) شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے، پھر ان کو واپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 557]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، بِمِثْلِ إِسْنَادِهِمْ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَاسْتَنْثَرَ مِنْ ثَلَاثِ غَرَفَاتٍ، وَقَالَ أَيْضًا: فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِ، وَأَدْبَرَ مَرَّةً وَاحِدَةً، قَالَ بَهْزٌ: أَمْلَى عَلَيَّ وُهَيْبٌ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ وُهَيْبٌ: أَمْلَى عَلَيَّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّتَيْنِ.
بہز نے وہیب سے اور اس نے عمرو بن یحییٰ سے سابقہ راویوں کی اسناد کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا: اور انہوں نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی، تین چلو پانی سے۔ اور یہ بھی کہا: پھر سر کا مسح کیا اور آگے سے (پیچھے کو) اور پیچھے سے (آگے کو) مسح کیا ایک بار۔ بہز نے کہا: وہیب نے یہ حدیث مجھے املا کرائی اور وہیب نے کہا: عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث مجھے دو مختلف موقعوں پر املا کرائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 558]
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ حَبَّانَ بْنَ وَاسِعٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ: " أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ اسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَالأُخْرَى ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا "، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ.
ہارون بن سعید ایلی اور ابوطاہر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ حبان بن واسع نے انہیں حدیث سنائی (کہا:) ان کے والد نے ان سے بیان کیا (کہا:) انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے وضو کیا تو کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنا دایاں ہاتھ تین بار اور دوسرا بھی تین بار دھویا اور سر کا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھ میں بچا ہوا تھا اور اپنے پاؤں دھوئے حتیٰ کہ ان کو اچھی طرح صاف کر دیا۔ (اسی سند کے ایک راوی) ابوطاہر نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: ہمیں ابن وہب نے عمرو بن حارث سے یہ حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 559]
|
|
|
8: باب الإِيتَارِ فِي الاِسْتِنْثَارِ وَالاِسْتِجْمَارِ:
باب: ناک میں طاق مرتبہ پانی ڈالنا، اور طاق مرتبہ استنجاء کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جميعا، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا، وَإِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلِيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً، ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ٹھوس چیز (پتھر، ڈھیلا، ٹائلٹ پیپر وغیرہ) سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے اور جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے، پھر ناک جھاڑے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 560]
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ ".
ہمام بن منبہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو دونوں نتھنوں سے ناک میں پانی کھینچے، پھر ناک جھاڑے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 561]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوادریس خولانی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے وہ ناک جھاڑے اور جو استنجا کرے وہ طاق عدد میں کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 562]
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابوادریس خولانی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ دونوں سے سنا کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے وہ ناک جھاڑے اور جو استنجا کرے وہ طاق عدد میں کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 563]
|
|
|
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ ".
عیسیٰ بن طلحہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسوں پر رات گزارتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 564]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو سنا، کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب ٹھوس چیز سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 565]
|
|
|
9: باب وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا:
باب: وضو میں مکمل پاؤں دھونے کے واجب ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى شَدَّادٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
مخرمہ بن بکیر نے اپنے والد سے، انہوں نے شداد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی، انہوں نے کہا: جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس وضو کیا تو انہوں نے فرمایا: عبدالرحمن! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 566]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَذَكَرَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِه.
محمد بن عبدالرحمان نے شداد بن ہاد کے آزاد کردہ غلام ابوعبداللہ (سالم) سے روایت بیان کی کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کیا: ”وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 567]
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي، أَوْ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي جَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَابِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے بیان کیا کہ مہری کے آزاد کردہ غلام سالم نے مجھے بتایا کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے کے لیے نکلے تو ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے سے گزرے۔ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ وضو کے لیے اندر گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عبدالرحمن! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 568]
|
|
|
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَذَكَرَ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
نعیم بن عبداللہ نے شداد بن ہاد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی: ”وضو کے پانی سے تر نہ ہونے والی ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 569]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يسَافٍ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ، تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّئُوا وَهُمْ عِجَالٌ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ، لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ".
جریر نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابویحییٰ (مصدع، الاعرج) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے۔ راستے میں جب ہم ایک پانی والی منزل پر پہنچے تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے جلدی کی، وضو کیا تو جلدی میں تھے، ہم ان تک پہنچے تو ان کی ایڑیاں اس طرح نظر آ رہی تھیں کہ انہیں پانی نہیں لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 570]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَفِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِى يَحْيَى الأَعْرَجِ.
منصور کے دوسرے شاگرد سفیان اور شعبہ کے حوالے سے بھی باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی گئی جس میں شعبہ نے (خوب اچھی طرح وضو کرو) کے الفاظ بیان نہیں کیے اور اس کی حدیث (کی سند) میں ہے: ابویحییٰ اعرج سے روایت ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 571]
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: " تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
یوسف بن ماہک نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: ایک سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے، آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا، ہم (میں سے کچھ لوگ) اپنے پاؤں پر (جلدی میں) ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا: ”(ان) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 572]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " رَأَى رَجُلًا لَمْ يَغْسِلْ عَقِبَيْهِ، فَقَالَ: وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنی ایڑی نہیں دھوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”(ان) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 573]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْهَرَةِ، فَقَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ ".
شعبہ نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو وضو کے برتن سے وضو کرتے دیکھا تو کہا: وضو اچھی طرح کرو میں نے حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”(ان) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 574]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ".
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 575]
|
|
|
10: باب وُجُوبِ اسْتِيعَابِ جَمِيعِ أَجْزَاءِ مَحَلِّ الطَّهَارَةِ:
باب: تمام اعضاء وضو کو مکمل طور پر دھونے کا وجوب۔
|
|
|
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، " أَنَّ رَجُلًا تَوَضَّأَ، فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ، أَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، فَرَجَعَ، ثُمَّ صَلَّى ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک شخص نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن جتنی جگہ چھوڑ دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ لیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ اور اپنا وضو خوب اچھی طرح کرو۔“ وہ واپس گیا، (حکم پر عمل کیا) پھر نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 576]
|
|
|
11: باب خُرُوجِ الْخَطَايَا مَعَ مَاءِ الْوُضُوءِ:
باب: وضو کے پانی کے ساتھ گناہوں کا جھڑنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ، أَوِ الْمُؤْمِنُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ، كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ، خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاء، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایک مسلم (یا مومن) بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی (یا پانی کے آخری قطرے) کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ سارے گناہ، جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کیا تھا، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی (یا پانی کے آخری قطرے) کے ساتھ وہ سارے گناہ، جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کیے تھے، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پانی (یا پانی کے آخری قطرے) کے ساتھ وہ تمام گناہ، جو اس کے پیروں نے چل کر کیے تھے، خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر نکلتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 577]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ، حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ ".
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا، تو اس کے جسم سے اس کے گناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 578]
|
|
|
12: باب اسْتِحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ:
باب: اعضاء وضو کو چمکانے کے لیے مقررہ حد سے زیادہ دھونے کا استحباب۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالُوا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ، ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، حَتَّى أَشْرَعَ فِي السَّاقِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ، فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ ".
عمارہ بن غزیہ انصاری نے نعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ (ہی) روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے، بڑھا لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 579]
|
|
|
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّهُ رَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّى كَادَ يَبْلُغُ الْمَنْكِبَيْنِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى رَفَعَ إِلَى السَّاقَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ، فَلْيَفْعَلْ ".
سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے یہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے، بڑھا لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 580]
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ، لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ، وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ، كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكُمْ سِيمَا، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ".
مروان نے ابومالک اشجعی سعد بن طارق سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور (اس کا پانی) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے، اس لیے) میں (امت کے علاوہ دوسرے) لوگوں کو اس سے روکوں گا، جیسے آدمی اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔“ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 581]
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ، وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ، فَلَا يَصِلُونَ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، هَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِي، فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ، فَيَقُولُ: وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ ".
(مروان کے بجائے) ابن فضیل نے ابومالک اشجعی سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو اس (حوض) سے دور ہٹاؤں گا جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثرات سے روشن چہرے اور چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کہے گا: کیا آپ جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کام ایجاد کیے تھے؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 582]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ، كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الإِبِلَ الْغَرِيبَةَ، عَنْ حَوْضِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ ".
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس سے اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو ہٹاؤں گا، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 583]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى الْمَقْبُرَةَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا، قَالُوا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ، مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ، أَلَا هَلُمَّ؟ فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا، سُحْقًا ".
اسماعیل (بن جعفر) نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں آئے اور فرمایا: ”اے ایمان والی قوم کے گھرانے! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو (بھی) دیکھا ہوتا۔“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ نے جواب دیا: ”تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک (دنیا میں) نہیں آئے۔“ اس پر انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو، جو ابھی (دنیا میں) نہیں آئے، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ”بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے (اور) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”وہ وضو کی بنا پر روشن چہروں، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشرو ہوں گا، خبردار! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹائے جائیں گے، جیسے (کہیں اور کا) بھٹکا ہوا اونٹ (جو گلے کا حصہ نہیں ہوتا) پرے ہٹا دیا جاتا ہے، میں ان کی آواز دوں گا، دیکھو! ادھر آ جاؤ۔ تو کہا جائے گا، انہوں نے آپ کے بعد (اپنے قول و عمل کو) بدل لیا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 584]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ جَمِيعًا، عَنْ العَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ: فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ، عَنْ حَوْضِي.
(اسماعیل کے بجائے) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو، ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔“ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا۔“ (الا، یعنی خبردار کے بجائے ف، یعنی تو، کا لفظ ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 585]
|
|
|
13: باب تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ:
باب: جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا وہاں تک زیور پہنایا جائے گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: " كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، فَكَانَ يَمُدُّ يَدَهُ حَتَّى تَبْلُغَ إِبْطَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ فَقَالَ: يَا بَنِي فَرُّوخَ، أَنْتُمْ هَاهُنَا، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ ".
ابوحازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے، یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا، میں نے ان سے پوچھا: اے ابوہریرہ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اے فروخ کی اولاد (اے بنی فارس)! تم یہاں ہو؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا۔ میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: ”مومن کا زیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 586]
|
|
|
14: باب فَضْلِ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ:
باب: تکلیف کے وقت مکمل وضو کرنے کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ".
اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناگواریوں (کے) باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مساجد تک زیادہ قدم چلنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، سو یہی رباط (شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 587]
|
|
|
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ذِكْرُ: الرِّبَاطِ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ ثِنْتَيْنِ: فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ.
(بجائے اسماعیل کے) مالک اور شعبہ نے اسی سند کے ساتھ علاء بن عبدالرحمن سے روایت کی، شعبہ کی حدیث میں (رباط) کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ مالک کی حدیث میں دو باہ ہے: ”یہی رباط ہے، یہی رباط ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 588]
|
|
|
15: باب السِّوَاكِ:
باب: مسواک کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْر: عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو (زہیر کی روایت میں ہے: اپنی امت کو) مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 589]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: " بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ ".
مسعر نے مقدام بن شریح سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تو کس بات (کام) سے آغاز فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: مسواک سے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 590]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ، بَدَأَ بِالسِّوَاكِ ".
سفیان نے مقدام بن شریح سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 591]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ ".
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسواک کا ایک کنارا آپ کی زبان پر تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 592]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ لِيَتَهَجَّدَ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ ".
ہشیم نے حصین سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 593]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُولُوا: لِيَتَهَجَّد.
منصور اور اعمش دونوں نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے ... آگے سابقہ روایت کی طرح ہے لیکن انہوں نے (تہجد کے لیے) کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 594]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٌ ، وَالأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ ".
سفیان نے منصور کے حوالے سے اور حصین اور اعمش نے (بھی منصور کی طرح) ابووائل سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 595]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، " أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاء، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ حَتَّى بَلَغَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 190 - 191، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَتَلَا هَذِهِ الآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابومتوکل کو بتایا کہ انہوں نے ایک رات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں اٹھے، باہر نکلے اور آسمان پر نظر ڈالی پھر سورہ آل عمران کی آیت: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ تلاوت کی اور فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تک پہنچے۔ پھر گھر لوٹے اور اچھی طرح مسواک کی اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، پھر لیٹ گئے، پھر کھڑے ہوئے، باہر آسمان کی طرف دیکھا، پھر (دوبارہ) یہ آیت پڑھی، پھر واپس آئے، مسواک کی اور وضو فرمایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 596]
|
|
|
16: باب خِصَالِ الْفِطْرَةِ:
باب: فطرتی خصلتوں کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ، الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ".
ابن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”فطرت (کے خصائل) پانچ ہیں (یا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں): ختنہ کرانا، زیر ناف بال مونڈنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 597]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، الِاخْتِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الإِبِطِ ".
مجھے یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”(خصائل) فطرت پانچ ہیں: ختنہ کرانا، زیر ناف بال مونڈنا، مونچھ کترنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 598]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ جَعْفَرٍ ، قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ " وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفِ الإِبِطِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے لیے مونچھیں کترنے، ناخن تراشنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 599]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى ".
عبید اللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 600]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ، وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ ".
ابوبکر بن نافع نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے مونچھیں اچھی طرح تراشنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 601]
|
|
|
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى ".
عمر بن محمد نے نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکوں کی مخالفت کرو، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 602]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى، خَالِفُوا الْمَجُوسَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مونچھیں اچھی طرح کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوس کی مخالفت کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 603]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ "، قَالَ زَكَرِيَّاءُ: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ: الْمَضْمَضَةَ، زَادَ قُتَيْبَةُ، قَالَ وَكِيعٌ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں وکیع نے زکریا بن ابی زائدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے، انہوں نے طلق بن حبیب سے، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس چیزیں (خصائل) فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی کھینچنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا، پانی سے استنجا کرنا۔“ زکریا نے کہا: مصعب نے بتایا: دسویں چیز میں بھول گیا ہوں لیکن وہ کلی کرنا ہو سکتا ہے۔ قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ وکیع نے کہا: انتقاض الماء کے معنی استنجا کرنا ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 604]
|
|
|
حَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُوهُ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ.
ابوکریب نے بیان کیا، ہمیں ابوزائدہ کے بیٹے نے اپنے والد (ابوزائدہ) سے خبر دی، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی، البتہ ابن ابی زائدہ نے کہا: ان کے والد نے کہا: میں دسویں بات بھول گیا ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 605]
|
|
|
17: باب الاِسْتِطَابَةِ:
باب: استنجاء کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَي وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ: فَقَالَ: أَجَلْ لَقَدْ " نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ لِغَائِطٍ، أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ ".
اعمش کے دو شاگرد وکیع اور ابومعاویہ کی سندوں سے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور یہ الفاظ ابومعاویہ کے شاگرد یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں) کہ ان (سلمان رضی اللہ عنہ) سے (طنزاً) کہا گیا: تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت (کے طریقے) کی بھی۔ کہا: انہوں نے جواب دیا: ہاں (ہمیں سب کچھ سکھایا ہے،) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یا ہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 606]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا الْمُشْرِكُونَ: " إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ، فَقَالَ: أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ: لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ".
اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے، ان دونوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن یزید سے، انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مشرکوں نے ہم سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی (ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ تو سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، انہوں نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی (سے استنجا کرنے) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: ”تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 607]
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ، أَوْ بِبَعْرٍ ".
ابوزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہڈی یا لید کے ذریعے سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 608]
|
|
|
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتَ الزُّهْرِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، بِبَوْلٍ، وَلَا غَائِطٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا، أَوْ غَرِّبُوا "، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا، وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، قَالَ: نَعَمْ.
زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے کہا، ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی (الفاظ انہی کے ہیں) کہا: میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا: کیا آپ نے زہری سے سنا کہ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کی جگہ پر آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔“ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم شام گئے تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے پائے، ہم اس سے رخ بدلتے اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے؟ (سفیان نے) کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 609]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ عَلَى حَاجَتِهِ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ پر بیٹھے تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 610]
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي، انْصَرَفْتُ إِلَيْهِ مِنْ شِقِّي، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، يَقُولُ نَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْحَاجَةِ تَكُونُ لَكَ، فَلَا تَقْعُدْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَلَا بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَلَقَدْ رَقِيتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ، مُسْتَقْبِلًا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ ".
محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں اپنی بہن (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر (کی چھت) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قضائے حاجت کے لیے بیٹھے تھے، شام کی طرف رخ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 611]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " رَقِيتُ عَلَى بَيْتِ أُخْتِي حَفْصَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدًا لِحَاجَتِهِ، مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ، مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ ".
یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پشت قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کچھ لوگ کہتے ہیں: جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو، جو بھی ہو، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 612]
|
|
|
18: باب النَّهْيِ عَنْ الاِسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ:
باب: دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ، وَلَا يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلَاءِ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ ".
ہمام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، ابوقتادہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنا عضو خاص دائیں ہاتھ میں نہ پکڑے، نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 613]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ، فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ ".
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بیت الخلا میں داخل ہو تو اپنا عضو خاص اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 614]
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ، وَأَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ ".
ایوب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے (اپنے والد) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی برتن میں سانس لے یا اپنی شرم گاہ کو اپنا دایاں ہاتھ لگائے یا اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 615]
|
|
|
19: باب التَّيَمُّنِ فِي الطُّهُورِ وَغَيْرِهِ:
باب: طہارت داہنی طرف سے شروع کرے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ إِذَا تَطَهَّرَ، وَفِي تَرَجُّلِهِ إِذَا تَرَجَّلَ، وَفِي انْتِعَالِهِ إِذَا انْتَعَلَ ".
ابواحوص نے اشعث سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو وضو میں، جب آپ کنگھی کرتے تو کنگھی کرنے میں اور جب آپ جوتا پہنتے تو جوتا پہننے میں دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 616]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ، فِي نَعْلَيْهِ، وَتَرَجُّلِهِ، وَطُهُورِهِ ".
اشعث کے ایک دوسرے شاگرد شعبہ نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام معاملات میں، اپنے جوتے پہننے، اپنی کنگھی کرنے اور اپنے وضو کرنے میں دائیں طرف سے ابتدا کرنا پسند فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 617]
|
|
|
20: باب النَّهْيِ عَنِ التَّخَلِّي فِي الطُّرُقِ وَالظِّلاَلِ:
باب: راستے یا سائے میں قضائے حاجت سے ممانعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ، قَالُوا: وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ فِي ظِلِّهِمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دو سخت لعنت والے کاموں سے بچو۔“ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! سخت لعنت والے وہ دو کام کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو انسان لوگوں کی گزرگاہ میں یا ان کی سایہ دار جگہ میں (جہاں وہ آرام کرتے ہیں) قضائے حاجت کرتا ہے (لوگ ان دونوں کاموں پر اس کو سخت برا بھلا کہتے ہیں۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 618]
|
|
|
21: باب الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ مِنَ التَّبَرُّزِ:
باب: پانی کے ساتھ استنجاء کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ حَائِطًا، وَتَبِعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاء ".
خالد (ھذاء) نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا، اس نے اسے ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 619]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَغُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدْخُلُ الْخَلَاءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً، فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ ".
دو مختلف سندوں سے شعبہ سے روایت ہے، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے خالی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاتے (اور دور تک آپ کا ساتھ دیتے) اور آپ پانی سے استنجا کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 620]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ، فَآتِيهِ بِالْمَاءِ فَيَتَغَسَّلُ بِهِ ".
(شعبہ کے بجائے) روح بن قاسم کی سند سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے کھلی جگہ تشریف لے جاتے تو میں آپ کے لیے پانی لے جاتا، آپ اس سے استنجا کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 621]
|
|
|
22: باب الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:
باب: موزوں پر مسح کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: " بَالَ جَرِيرٌ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ: تَفْعَلُ هَذَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ "، قَالَ الأَعْمَشُ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: كَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ، لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ہمام سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت جریر (بن عبداللہ البجلی) رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا تو ان سے کہا گیا: آپ یہ کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ اعمش نے کہا: ابراہیم نے بتایا کہ لوگوں (ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں) کو یہ حدیث بہت پسند تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔ (سورہ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی تھی۔ اور آپ کا یہ عمل اس کے بعد کا تھا جو آیت سے منسوخ نہیں ہوا تھا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 622]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ الأَعْمَشِ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَى، وَسُفْيَانَ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ، لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
(ابومعاویہ کے بجائے) اعمش کے دیگر متعدد شاگردوں عیسیٰ بن یونس، سفیان اور ابن مسہر نے بھی ابومعاویہ سے حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، البتہ عیسیٰ اور سفیان کی حدیث میں ہے، (ابراہیم نخعی نے) کہا: عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے شاگردوں کو یہ حدیث بہت پسند تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ سورہ مائدہ کے اترنے کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 623]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ: ادْنُهْ، فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ، فَتَوَضَّأَ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ".
اعمش نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ ایک خاندان کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو میں دور ہٹ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”قریب آ جاؤ۔“ میں قریب ہو کر (دوسری طرف رخ کر کے) آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا (فراغت کے بعد) آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ (قریب کھڑا کرنے کا مقصد اس کی [صحيح مسلم/حدیث: 624]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: " كَانَ أَبُو مُوسَى، يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ، وَيَقُولُ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ، كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ، قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ، لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ، فَبَالَ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ، حَتَّى فَرَغَ ".
منصور نے ابووائل (شقیق) سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے: بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنے حصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا۔ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب (استاد) اس قدر سختی نہ کرے، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر آئے، آپ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتیٰ کہ آپ فارغ ہو گئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 625]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: مَكَانَ حِينَ، حَتَّى.
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے نافع بن جبیر سے، انہوں نے عروہ بن مغیرہ سے، انہوں نے اپنے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے نکلے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے برتن لے کر آئے جس میں پانی تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔“ ابن رمح رحمہ اللہ کی روایت میں حب کے بجائے ”یہاں تک کہ (آپ فارغ ہو گئے)“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 626]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَيَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
یحییٰ بن سعید کے ایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا، پھر موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 627]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، إِذْ نَزَلَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ كَانَتْ مَعِي، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ".
اسود بن ہلال نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سواری سے) اترے اور قضائے حاجت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے اس برتن سے جو میرے پاس تھا ”پانی ڈالا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور آپ نے موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 628]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ، خُذْ الإِدَاوَةَ، فَأَخَذْتُهَا، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم (بن صبیح ہمدانی) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے فرمایا: ”اے مغیرہ! پانی کا برتن لے لو۔“ میں نے برتن لے لیا، پھر آپ کے ساتھ نکلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ مجھ سے اوجھل ہو گئے، قضائے حاجت کی، پھر آپ واپس آئے، آپ نے تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا، آپ اس کی آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرنے لگے (مگر) وہ (جبہ) تنگ (ثابت) ہوا۔ آپ نے اپنا ہاتھ نیچے سے نکالا، پھر میں نے پانی ڈالا تو آپ نے نماز جیسا وضو فرمایا، پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 629]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جميعا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا ".
اعمش سے (ابومعاویہ کے بجائے) عیسیٰ بن یونس نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر چہرہ دھویا، پھر ہاتھ دھونے لگے تو جبہ تنگ نکلا، آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے، ان کو دھویا، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 630]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ، فَقَالَ لِي: أَمَعَكَ مَاء؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا ".
زکریا نے عامر (شعبی) سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: ایک رات میں سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ اپنی سواری سے اترے، پھر پیدل چل دیے یہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہو گئے، پھر (واپس) آئے تو میں نے برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے اپنا چہرہ دھویا (اس وقت) آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ اس میں سے اپنے ہاتھ نہ نکال سکے حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے چاہے تو آپ نے فرمایا: ”ان کو چھوڑو، میں نے باوضو ہو کر دونوں پاؤں ان میں ڈالے تھے۔“ اور ان پر مسح فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 631]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ: فَقَالَ: " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ".
عامر شعبی کے ایک دوسرے شاگرد عمر بن ابی زائدہ نے عروہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کی کہ انہوں (مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ مغیرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بارے میں) بات کی تو آپ نے فرمایا: ”میں نے انہیں باوضو حالت میں (موزوں میں) داخل کیا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 632]
|
|
|
23: باب الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ:
باب: پیشانی اور پگڑی پر مسح کرنا۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيع ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ، قَالَ: أَمَعَكَ مَاءٌ؟ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، وَوَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، وَرَكِبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْتُ، فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا ".
حمید الطویل نے کہا: ہمیں بکر بن عبداللہ مزنی نے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قافلے سے) پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا، جب آپ نے قضائے حاجت کر لی تو فرمایا: ”کیا تمہارے ساتھ پانی ہے؟“ میں آپ کے پاس وضو کرنے کا برتن لایا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا، پھر دونوں بازو کھولنے لگے تو جبے کی آستین تنگ پڑ گئی، آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور جبہ کندھوں پر ڈال لیا، اپنے دونوں بازو دھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا، پھر آپ سوار ہوئے اور میں (بھی) سوار ہوا، ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو وہ نماز کے لیے کھڑے تھے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کی تشریف آوری) کا احساس ہوا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا (کہ نماز پوری کرو) تو انہوں نے نماز پڑھا دی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، میں بھی کھڑا ہو گیا اور ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے ہو چکی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 633]
|
|
|
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، وَعَلَى عِمَامَتِهِ ".
امیہ بن بسطام اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی، کہا: مجھے بکر بن عبداللہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے واسطے سے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں، اپنے سر کے سامنے کے حصے اور اپنے عمامے پر مسح فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 634]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے بکر سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کی۔ (بکر نے عروہ بن مغیرہ سے حسن کے حوالے سے بھی یہ روایت حاصل کی اور براہ راست بھی سنی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 635]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جميعا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ بَكْرٌ : وَقَدْ سَمِعْتَ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى الْخُفَّيْنِ ".
یحییٰ بن سعید نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے بکر بن عبداللہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی (بکر نے کہا: میں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے (بلاواسطہ بھی) سنا) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے سر کے اگلے حصے پر اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 636]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ بِلَالٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَالْخِمَارِ "، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، حَدَّثَنِي بِلَالٌ.
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے، انہوں نے حکم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر اور سر ڈھانپنے والے کپڑے پر مسح کیا۔ عیسیٰ کی حدیث میں ”حکم سے (روایات کی)“ اور ”بلال سے روایت کی“ کے بجائے مجھے حکم نے حدیث سنائی اور مجھے بلال نےحدیث سنائی“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 637]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم.
اور یہی روایت مجھ (امام مسلم) کو سوید بن سعید نے علی بن مسہر سے اور انہوں نے اعمش سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ بیان کی۔ اس میں إن رسول الله صلى الله عليه وسلم (یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) کے بجائے رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 638]
|
|
|
24: باب التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ:
باب: موزوں پر مسح کرنے کی مدت۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ، أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ فَقَالَتْ: عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَسَلْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ "، قَالَ: وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا ذَكَرَ عَمْرًا أَثْنَى عَلَيْهِ.
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے عمرو بن قیس ملائی سے حدیث سنائی، انہوں نے حکم بن عتیبہ سے، انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے، انہوں نے شریح بن ہانی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی غرض سے حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات (کا وقت) مقرر فرمایا۔ (عبدالرزاق نے) کہا: سفیان (ثوری) جب بھی عمرو (بن قیس ملائی) کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 639]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
زید بن ابی انیسہ نے حکم سے مذکورہ سند کے ساتھ اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 640]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَتْ: ائْتِ عَلِيًّا، فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي، فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
اعمش نے حکم کے حوالے سے قاسم بن مغیرہ سے اور انہوں نے شریح بن ہانی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اس مسئلے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو میں علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (جو اوپر مذکور ہے) کے مطابق بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 641]
|
|
|
25: باب جَوَازِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ:
باب: ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا جواز۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الصَّلَوَاتِ يَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ؟ قَالَ: عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ ".
سلیمان بن بریدہ (اسلمی) نے اپنے والد سے روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن کئی نمازیں ایک وضو سے پڑھیں اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے پوچھا: آپ نے آج ایسا کام کیا جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ آپ نے جواب دیا: ”اے عمر! میں نے عمداً ایسا کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 642]
|
|
|
26: باب كَرَاهَةِ غَمْسِ الْمُتَوَضِّئِ وَغَيْرِهِ يَدَهُ الْمَشْكُوكَ فِي نَجَاسَتِهَا فِي الإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا ثَلاَثًا:
باب: تین بار ہاتھ دھونے سے پہلے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے کی کراہت۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ؟ ".
عبداللہ بن شقیق نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اس وقت تک اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے تین دفعہ دھو نہ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں (کہاں) رہا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 643]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، وَأَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: يَرْفَعُهُ بِمِثْلِهِ.
وکیع اور ابومعاویہ کی سندوں سے اعمش سے روایت ہے، انہوں نے ابورزین اور ابوصالح سے اور ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی۔ ابومعاویہ کی روایت میں ہے: (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (جبکہ) وکیع کی روایت میں (ہے) کہا: (اور) اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔ (آگے) اسی (سابقہ روایت) کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 644]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ابوسلمہ نے ابن مسیب دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 645]
|
|
|
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُه؟ ".
جابر (بن عبداللہ) رضی اللہ عنہما نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے ان (جابر رضی اللہ عنہما) کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو (وضو کا پانی نکالنے کے لیے) اپنے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تین بار اپنے ہاتھ پر پانی ڈالے (اور ہاتھ دھوئے) کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کے ہاتھ نے کس (حالت) میں رات گزاری۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 646]
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، كُلُّهُمْ يَقُولُ: حَتَّى يَغْسِلَهَا، وَلَمْ يَقُلْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ: ثَلَاثًا، إِلَّا مَا قَدَّمْنَا مِنْ رِوَايَةِ جَابِرٍ، وَابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي رَزِينٍ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ذِكْرَ: الثَّلَاثِ.
اعرج، محمد، علاء کے والد عبدالرحمن بن یعقوب، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض (سب) نے کہا: ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، سبھی نے اپنی اپنی روایت میں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی۔ سبھی کہتے ہیں: ”حتیٰ کہ اس (ہاتھ) کو دھولے۔“ اور ان میں سے کسی نے بھی ”تین بار“ کا لفظ نہیں بولا، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر رضی اللہ عنہما، ابن مسیب، ابوسلمہ، عبداللہ بن شقیق، ابوصالح اور ابورزین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ”تین بار“ کا ذکر ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 647]
|
|
|
27: باب حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ:
باب: کتے کے جھوٹے کا حکم۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيُرِقْهُ، ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مِرَارٍ ".
علی بن مسہر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اعمش نے ابورزین اور ابوصالح سے خبر دی، ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا زبان کے ساتھ پی لے اور وہ اس چیز کو بہا دے، پھر برتن کو سات دفعہ دھولے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 648]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلْيُرِقْهُ.
اسماعیل بن زکریا نے اعمش کے حوالے سے، باقی ماندہ مذکورہ سند کے ساتھ، یہی روایت بیان کی لیکن ”اسے بہا دے“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 649]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں پی لے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 650]
|
|
|
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ، أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ ".
محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی طہارت (پاک ہونا) یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ دھوئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 651]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ، أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 652]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُهُمْ، وَبَالُ الْكِلَابِ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ، وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ فِي التُّرَابِ ".
عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں میرے والد نے، انہیں شعبہ نے ابوالتیاح سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی۔ اور انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے سنا، ابن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”ان کا کتوں سے کیا واسطہ ہے؟“ پھر (لوگوں سے ضروریات کی تفصیل سن کر) شکار اور بکریوں (کی حفاظت کرنے) والے کتے (رکھنے) کی اجازت دی اور فرمایا: ”جب کتا برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں بار (زیادہ روایات میں ہے ایک بار) مٹی سے صاف کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 653]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: مِنَ الزِّيَادَةِ، وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَالصَّيْدِ، وَالزَّرْعِ، وَلَيْسَ ذَكَرَ: الزَّرْعَ، فِي الرِّوَايَةِ غَيْرُ يَحْيَى.
(خالد) بن حارث، یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر، سب نے شعبہ سے اسی سند سے اس (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، البتہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے بکریوں کی حفاظت، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی۔ یحییٰ کے سوا زرع (کھیتی) کا ذکر کسی روایت میں نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 654]
|
|
|
28: باب النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 655]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ".
ابن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”تم سے کوئی ہرگز ساکن پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اس میں سے نہائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 656]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبُلْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ تَغْتَسِلُ مِنْهُ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، انہوں نے کچھ احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھڑے ہوئے پانی میں، جو چل نہ رہا ہو، پیشاب نہ کرو کہ پھر تم اس میں نہاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 657]
|
|
|
29: باب النَّهْيِ عَنْ الاِغْتِسَالِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ:
باب: ٹھہرے ہوئے پانی کے اندر غسل کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَقَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا ".
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابوسائب نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے۔“ (ابوسائب نے) کہا: اے ابوہریرہ! وہ کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ (اس میں سے) پانی لے لے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 658]
|
|
|
30: باب وُجُوبِ غَسْلِ الْبَوْلِ وَغَيْرِهِ مِنَ النَّجَاسَاتِ إِذَا حَصُلَتْ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَّ الأَرْضَ تَطْهُرُ بِالْمَاءِ مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ إِلَى حَفْرِهَا:
باب: پیشاب یا نجاست وغیرہ اگر مسجد میں پائی جائیں تو ان کے دھونے کے وجوب اور زمین پانی سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کو کھودنے کی ضرورت نہیں۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَلَا تُزْرِمُوهُ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب (کرنا شروع) کر دیا، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اسے (پیشاب کے) درمیان میں مت روکو۔“ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ (پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کے اندر چلا گیا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 659]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَبَالَ فِيهَا فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ "، فَلَمَّا فَرَغَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ.
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ جب وہ فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی کا) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس (پیشاب) پر بہا دیا گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 660]
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاق، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، مَهْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ "، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ، لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ، وَلَا الْقَذَرِ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَشَنَّهُ عَلَيْهِ ".
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی، کہا: مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ اسحاق کے چچا تھے، کہا: ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (درمیان میں) مت روکو، اسے چھوڑ دو۔“ صحابہ کرام نے اسے چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں۔“ یا جو (بھی) الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 661]
|
|
|
31: باب حُكْمِ بَوْلِ الطِّفْلِ الرَّضِيعِ وَكَيْفِيَّةِ غَسْلِهِ:
باب: شیرخوار بچے کے پیشاب کا حکم اور اس کو دھونے کا طریقہ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ، وَيُحَنِّكُهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَتْبَعَهُ بَوْلَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ ".
عبداللہ بن نمیر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ (اپنی خالہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے۔ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے (رگڑ کر) دھویا نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 662]
|
|
|
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ يَرْضَعُ، فَبَالَ فِي حَجْرِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ".
جریر نے ہشام سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شیر خوار بچہ لایا گیا، اس نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 663]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
ہشام کے ایک اور شاگرد عیسیٰ نے ہشام کی اسی سند سے ابن نمیر کی روایت (: 662) کے مطابق روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 664]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، " أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَوَضَعَتْهُ فِي حَجْرِهِ، فَبَالَ، قَالَ: فَلَمْ يَزِدْ عَلَى أَنْ نَضَحَ بِالْمَاءِ "،
لیث نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ اپنے بچے کو، جس نے ابھی کھانا شروع نہ کیا تھا، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا تو اس نے پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر پانی چھڑکنے سے زیادہ کچھ نہ کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 665]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ، فَرَشَّهُ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) روایت کی اور کہا: آپ نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 666]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ، اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي: أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ، بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ عَلَى ثَوْبِهِ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا ".
یونس بن یزید نے کہا: مجھے ابن شہاب نے خبر دی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے (وہ جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والی ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ جو بنو اسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں، کی بہن تھیں) روایت کی، کہا: انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جو ابھی اس عمر کو نہ پہنچا تھا کہ کھانا کھا سکے۔ (ابن شہاب کے استاد) عبید اللہ نے کہا: انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے مجھے بتایا کہ میرے اس بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر بہا دیا اور اسے اچھی طرح دھویا نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 667]
|
|
|
32: باب حُكْمِ الْمَنِيِّ:
باب: منی کا حکم۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أن رجلا، نزل بعائشة، فأصبح يغسل ثوبه، فقالت عائشة " إِنَّمَا كَانَ يُجْزِئُكَ إِنْ رَأَيْتَهُ أَنْ تَغْسِلَ مَكَانَهُ، فَإِنْ لَمْ تَرَ، نَضَحْتَ حَوْلَهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا، فَيُصَلِّي فِيهِ ".
خالد نے ابومعشر سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے کچھ دیکھا تھا تو اس کی جگہ کو دھو دیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا تو اس کے ارد گرد (تک) پانی چھڑک دیتا۔ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے (مادہ منویہ کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی، پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 668]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الأَسْوَدِ ، وَهَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي الْمَنِيِّ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود اور ہمام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مادہ منویہ کے بارے میں روایت کی، کہا: میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 669]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مَعْشَر ٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ وَمُغِيرَةَ ، كل هؤلاء، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فِي حَتِّ الْمَنِيِّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ.
(خالد کی بجائے) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کے متعدد دیگر شاگردوں مغیرہ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے ابواسود کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابومعشر سے روایت (: 668) ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 670]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
ابن عیینہ نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ہمام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 671]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ، أَيَغْسِلُهُ، أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ ".
محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا (پورے) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں (سلیمان بن یسار) نے کہا: مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کپڑے سے) منی کو دھوتے، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 672]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ كلهم، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَمَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فَحَدِيثُهُ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ "، وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ، فَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عبدالواحد بن زیاد، ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ نے عمرو بن میمون سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، البتہ ابن ابی زائدہ کی حدیث کے الفاظ ابن بشر کی طرح (یہ) ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی (خود) دھوتے تھے جبکہ ابن مبارک اور عبدالواحد کی حدیث میں اس طرح ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 673]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: " كُنْتُ نَازِلًا عَلَى عَائِشَةَ، فَاحْتَلَمْتُ فِي ثَوْبَيَّ، فَغَمَسْتُهُمَا فِي الْمَاءِ، فَرَأَتْنِي جَارِيَةٌ لِعَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهَا، فَبَعَثَتْ إِلَيَّ عَائِشَةُ ، فَقَالَتْ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ بِثَوْبَيْكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: رَأَيْتُ مَا يَرَى النَّائِمُ فِي مَنَامِهِ، قَالَتْ: هَلْ رَأَيْتَ فِيهِمَا شَيْئًا؟ قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: فَلَوْ رَأَيْتَ شَيْئًا غَسَلْتَهُ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَأَحُكُّهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَابِسًا بِظُفُرِي.
عبداللہ بن شہاب خولانی سے روایت ہے، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مہمان تھا، مجھے اپنے دونوں کپڑوں میں احتلام ہو گیا تو میں نے وہ دونوں پانی میں ڈبو دیے، مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز نے دیکھ لیا اور انہیں بتا دیا تو انہوں نے میری طرف پیغام بھجوایا اور فرمایا: تو نے اپنے دونوں کپڑوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا: میں نے نیند میں وہ دیکھا جو سونے والا اپنی نیند میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں ان دونوں (کپڑوں) میں کچھ نظر آیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر تم کچھ دیکھتے تو اسے دھو ڈالتے۔ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اس کو خشک حالت میں اپنے ناخن سے کھرچ رہی ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 674]
|
|
|
33: باب نَجَاسَةِ الدَّمِ وَكَيْفِيَّةِ غَسْلِهِ:
باب: خون کی نجاست اور اس کو دھونے کا طریقہ۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ، كَيْفَ تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: تَحُتُّهُ، ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ تَنْضَحُهُ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ ".
وکیع نے بیان کیا، ہمیں ہشام نے حدیث سنائی: اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی، کہا: مجھے فاطمہ (بنت منذر) نے حدیث سنائی، انہوں نے (اپنی اور ہشام دونوں کی دادی) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور پوچھا: ہم میں سے کسی کو کپڑے کو حیض کا خون لگ جاتا ہے تو وہ اس کے بارے میں کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے کھرچ ڈالے، پھر پانی ڈال کر اسے رگڑے، پھر اس پر پانی بہا دے (دھو لے)، پھر اس میں نماز پڑھ لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 675]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ كلهم، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيد.
یحییٰ بن عبداللہ بن سالم، مالک بن انس اور عمرو بن حارث تینوں نے ہشام بن عروہ کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ یہی روایت اسی طرح بیان کی جس طرح یحییٰ بن سعید نے بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 676]
|
|
|
34: باب الدَّلِيلِ عَلَى نَجَاسَةِ الْبَوْلِ وَوُجُوبِ الاِسْتِبْرَاءِ مِنْهُ:
باب: پیشاب کی نجاست پر دلیل اور اس سے بچنا واجب ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ "، قَالَ: فَدَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا، وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ".
وکیع نے بیان کیا، (کہا:) ہمیں اعمش نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے مجاہد کو طاؤس سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا تو آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی غلطی کی بنا پر عذاب نہیں ہو رہا (جس سے بچنا دشوار ہوتا۔) ان میں ایک تو چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر آپ نے ایک تازہ کھجور کی چھڑی منگوائی اور اس کو دو حصوں میں چیر دیا، پھر ایک حصہ اس قبر پر گاڑ دیا اور دوسرا اس (دوسری قبر) پر، پھر آپ نے فرمایا: ”امید ہے جب تک یہ دو ٹہنیاں سوکھیں گی نہیں، ان کا عذاب ہلکا رہے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 677]
|
|
|
حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَكَانَ الآخَرُ لَا يَسْتَنْزِهُ عَنِ الْبَوْلِ، أَوْ مِنَ الْبَوْلِ.
عبدالواحد نے اسی سند سے سلیمان اعمش سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی، سوائے اس کے کہ کہا: اور دوسرا پیشاب (اپنے کپڑوں یا جسم) کی طرف سے (بچنے کا اہتمام نہیں کرتا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 678]
|
|