صحيح مسلم حدیث نمبر: 546
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 231
Sahih Muslim 546
کتاب #2: طہارت کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، قَالَ: كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ، إِلَّا وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً، وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلَاتِنَا هَذِهِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهَا الْعَصْرَ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ، أَوْ أَسْكُتُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ، فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا ".
مسعر نے ابوصخرہ جامع بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا (پانی) اپنے اوپر نہ بہا لیتے (ہلکا سا غسل نہ کر لیتے)۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز سے (مسعر کا قول ہے: میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟“ ہم نے عرض کی: ’اے اللہ کے رسول! اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اسے مکمل طریقے سے کرتا ہے، پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 546]