صحيح مسلم حدیث نمبر: 607
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 262.1
Sahih Muslim 607
کتاب #2: طہارت کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا الْمُشْرِكُونَ: " إِنِّي أَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ، فَقَالَ: أَجَلْ إِنَّهُ نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ: لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ ".
اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے، ان دونوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمن بن یزید سے، انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مشرکوں نے ہم سے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی (ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے۔ تو سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، انہوں نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی (سے استنجا کرنے) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: ”تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 607]