صحيح مسلم حدیث نمبر: 661
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 285
Sahih Muslim 661
کتاب #2: طہارت کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاق، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، مَهْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ "، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ، لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ، وَلَا الْقَذَرِ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَشَنَّهُ عَلَيْهِ ".
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی، کہا: مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ اسحاق کے چچا تھے، کہا: ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (درمیان میں) مت روکو، اسے چھوڑ دو۔“ صحابہ کرام نے اسے چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں۔“ یا جو (بھی) الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 661]