احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

138: باب مَا جَاءَ فِي سُتْرَةِ الْمُصَلِّي
باب: نمازی کے سترے کا بیان۔
سنن ترمذي حدیث نمبر: 335
حدثنا قتيبة، وهناد، قالا: حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن موسى بن طلحة، عن ابيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا وضع احدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل فليصل ولا يبالي من مر وراء ذلك ". قال: وفي الباب عن ابي هريرة , وسهل بن ابي حثمة , وابن عمر , وسبرة بن معبد الجهني , وابي جحيفة، وعائشة، قال ابو عيسى: حديث طلحة حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند اهل العلم، وقالوا: سترة الإمام سترة لمن خلفه.
طلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی اپنے آگے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز رکھ لے تو نماز پڑھے اور اس کی پرواہ نہ کرے کہ اس کے آگے سے کون گزرا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- طلحہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، سہل بن ابی حثمہ، ابن عمر، سبرہ بن معبد جہنی، ابوجحیفہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 47 (499)، سنن ابی داود/ الصلاة 102 (685)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 36 (940)، (تحفة الأشراف: 5011)، مسند احمد (1/161، 162) (حسن صحیح)

وضاحت: ۱؎: سترہ ایسی چیز ہے جسے نمازی اپنے آگے نصب کرے یا کھڑا کرے، خواہ وہ دیوار ہو یاس تون، نیزہ ہو یا لکڑی وغیرہ تاکہ یہ گزرنے والے اور نمازی کے درمیان آڑ رہے، اس کی سخت تاکید ہے، نیز میدان یا مسجد میں اس سلسلے میں کوئی فرق نہیں ہے، اور خانہ کعبہ میں سترہ کے آگے سے گزرنے والی حدیثیں ضعیف ہیں۔

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (940)

Share this: