احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

21: باب مَا جَاءَ فِي طُولِ الْعُمُرِ لِلْمُؤْمِنِ
باب: مومن کے حق میں لمبی عمر کے بہتر ہونے کا بیان۔
سنن ترمذي حدیث نمبر: 2329
حدثنا ابو كريب، حدثنا زيد بن حباب، عن معاوية بن صالح، عن عمرو بن قيس، عن عبد الله بن بسر، ان اعرابيا، قال: يا رسول الله، من خير الناس ؟ قال: " من طال عمره وحسن عمله "، وفي الباب عن ابي هريرة، وجابر، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه.
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5197)، مسند احمد (4/188، 190) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: عمر لمبی ہو گی اور عمل اچھا ہو گا تو نیکیاں زیادہ ہوں گی، اس لیے یہ مومن کے حق میں بہتر ہے، اس کے برعکس اگر عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں تو یہ اور برا معاملہ ہو گا، «أعاذنا الله منه»۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1836) ، المشكاة (5285 / التحقيق الثانى) ، الروض النضير (926)

Share this: