جامع الترمذي حدیث نمبر: 790
Jami at-Tirmidhi 790
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
71: باب مَا جَاءَ فِي الاِعْتِكَافِ
باب: اعتکاف کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَأَبِي لَيْلَى، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ۱؎ کرتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ اور عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابی بن کعب ، ابولیلیٰ ، ابوسعید ، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 790]
💡 وضاحت:
۱؎: اعتکاف کے لغوی معنی روکنے اور بند کر لینے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں ایک خاص کیفیت کے ساتھ اپنے آپ کو مسجد میں روکے رکھنے کو اعتکاف کہتے ہیں، اعتکاف سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اس کا اہتمام فرمایا ہے اور آپ کے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا بھی اس کا اہتمام کرتی تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (966)، صحيح أبي داود (2125)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (وأخرجہ النسائی فی الکبری) (تحفة الأشراف: 13285 و 16647) (صحیح)