جامع الترمذي حدیث نمبر: 788
Jami at-Tirmidhi 788
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
69: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ مُبَالَغَةِ الاِسْتِنْشَاقِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْبَغْدَادِيُّ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ كَثِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: " أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ السُّعُوطَ لِلصَّائِمِ، وَرَأَوْا أَنَّ ذَلِكَ يُفْطِرُهُ، وَفِي الْبَاب مَا يُقَوِّي قَوْلَهُمْ.
لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : ” کامل طریقے سے وضو کرو ، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرو ، إلا یہ کہ تم روزے سے ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اہل علم نے روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، ¤ ۳- اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 788]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (407)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 38 (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)