📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: روزوں کے احکام و مسائل (كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 789 Jami at-Tirmidhi 789
کتاب #9: کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
70: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلاَ يَصُومُ إِلاَّ بِإِذْنِهِمْ
باب: جو کسی جماعت کے یہاں آئے تو ان کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ وَاقِدٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَزَلَ عَلَى قَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا مِنَ الثِّقَاتِ، رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. وَقَدْ رَوَى مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ أَيْضًا، وَأَبُو بَكْرٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدَنِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ: الْفَضْلُ بْنُ مُبَشِّرٍ وَهُوَ أَوْثَقُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی جماعت کے ہاں اترے یعنی ان کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث منکر ہے ، ¤ ۲- ہم ثقات میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے روایت کی ہو ، ¤ ۳- موسیٰ بن داود نے یہ حدیث بطریق : «أبي بكر المدني عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۴- یہ حدیث بھی ضعیف ہے ، ابوبکر اہل الحدیث کے نزدیک ضعیف ہیں ، اور ابوبکر مدنی جو جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ، ان کا نام فضل بن مبشر ہے ، وہ ان سے زیادہ ثقہ اور ان سے پہلے کے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 789]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ابوبکر المدینی جنہوں نے ہشام سے روایت کی اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ابوبکر مدنی سے جنہوں نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے زیادہ قوی ہیں، اُن کا ضعف ان کے مقابلہ میں ہلکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، ابن ماجة (1763) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (391)، ضعيف الجامع (706 و 5865) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (789) ضعيف / جه 1763 ¤ أيوب بن واقد:متروك (تق:230) وتابعه أبوبكر المديني وھو ضعيف كما قال الترمذي والحافظ حجر (تق:8000) وغيرهما
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16767) (ضعیف جداً) (سند میں ایوب بن واقدمتروک الحدیث راوی ہے) وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 54 (1763) من غیر ہذا الطریق وہو أیضا ضعیف لأجل أبی بکر المدنی فہو أیضا متروک۔
جامع الترمذي • حدیث #789
787 788 789 790 791
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ