جامع الترمذي حدیث نمبر: 555
Jami at-Tirmidhi 555
کتاب #7: کتاب: سفر کے احکام و مسائل
42: باب مَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ " اسْتُغِيثَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ فَجَدَّ بِهِ السَّيْرُ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کی ایک بیوی ۱؎ کے حالت نزع میں ہونے کی خبر دی گئی تو انہیں چلنے کی جلدی ہوئی چنانچہ انہوں نے مغرب کو مؤخر کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی ، وہ سواری سے اتر کر مغرب اور عشاء دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا ، پھر لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے تھے ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ لیث کی حدیث ( رقم ۵۵۴ ) جسے انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 555]
💡 وضاحت:
۱؎: ان کا نام صفیہ بنت ابی عبید ہے۔
۲؎: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ اور بہت سے علماء کا یہی قول ہے کہ دو نمازوں کے درمیان جمع اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب آدمی سفر میں چلتے رہنے کی حالت میں ہو، اگر مسافر کہیں مقیم ہو تو اسے ہر نماز اپنے وقت ہی پر پڑھنی چاہیئے، اور احتیاط بھی اسی میں ہے، ویسے میدان تبوک میں حالت قیام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جمع بین الصلاتین ثابت ہے، لیکن اسے بیان جواز پر محمول کیا جاتا ہے۔
۲؎: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ اور بہت سے علماء کا یہی قول ہے کہ دو نمازوں کے درمیان جمع اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب آدمی سفر میں چلتے رہنے کی حالت میں ہو، اگر مسافر کہیں مقیم ہو تو اسے ہر نماز اپنے وقت ہی پر پڑھنی چاہیئے، اور احتیاط بھی اسی میں ہے، ویسے میدان تبوک میں حالت قیام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جمع بین الصلاتین ثابت ہے، لیکن اسے بیان جواز پر محمول کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1090)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 6 (1091)، والعمرة 20 (1805)، والجہاد 136 (3000)، صحیح مسلم/المسافرین 5 (703)، سنن ابی داود/ الصلاة 274 (1207)، سنن النسائی/المواقیت 43 (589)، و45 (592، 596، 597)، (تحفة الأشراف: 8056)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 1 (3)، مسند احمد (2/804) (صحیح)