جامع الترمذي حدیث نمبر: 553
Jami at-Tirmidhi 553
کتاب #7: کتاب: سفر کے احکام و مسائل
42: باب مَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ هُوَ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى أَنْ يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ عَجَّلَ الْعَصْرَ إِلَى الظُّهْرِ وَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالصَّحِيحُ عَنْ أُسَامَةَ، وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ قُتَيْبَةَ هَذَا الْحَدِيثَ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ ملا دیتے اور دونوں کو ایک ساتھ پڑھتے ، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو عصر کو پہلے کر کے ظہر سے ملا دیتے اور ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے ۔ اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے ، اور جب مغرب کے بعد کوچ فرماتے تو عشاء کو پہلے کر کے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اور صحیح یہ ہے کہ اسامہ سے مروی ہے ، ¤ ۲- نیز یہ حدیث علی بن مدینی نے احمد بن حنبل سے اور احمد بن حنبل نے قتیبہ سے روایت کی ہے ۱؎ ، ¤ ۳- اس باب میں علی ، ابن عمر ، انس ، عبداللہ بن عمرو ، عائشہ ، ابن عباس ، اسامہ بن زید اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 553]
💡 وضاحت:
۱؎: جو آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1106)، الإرواء (578)، التعليقات الجياد
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 6 (706)، سنن ابی داود/ الصلاة 274 (1206، 1220)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 74 (1070)، (تحفة الأشراف: 11320)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 1 (2)، مسند احمد (5/229، 230، 233، 236، 237، 241)، سنن الدارمی/الصلاة 182 (1556) (صحیح)