جامع الترمذي حدیث نمبر: 515
Jami at-Tirmidhi 515
کتاب #5: کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ، وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ يَخْطُبُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، فَقَالَ عُمَارَةُ: " قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيُدَيَّتَيْنِ الْقُصَيَّرَتَيْنِ، لَقَدْ رأَيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَابةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
حصین کہتے ہیں کہ بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے ، انہوں نے دعا ۱؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا : اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں ، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 515]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں «فی الدعاء» کا لفظ نہیں ہے، مولف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعا میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے، اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا، تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء (بارش کے طلب) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا، صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1012)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجمعة 13 (874)، سنن ابی داود/ الصلاة 230 (1104)، سنن النسائی/الجمعة 29 (1413)، (تحفة الأشراف: 10377)، مسند احمد (4/135، 136، 261)، سنن الدارمی/الصلاة 201 (1601) (صحیح)