📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل (كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 513 Jami at-Tirmidhi 513
کتاب #5: کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
17: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ التَّخَطِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَخَطَّى الرَّجُلُ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَشَدَّدُوا فِي ذَلِكَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے ۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے ، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے ۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے ۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 513]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ترجمہ «اتّخَذَ» معروف کے صیغے کا ہے مشہور اعراب مجہول کے صیغے «اتُّخِذَ» کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ یوں ہو گا کہ جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے گا وہ جہنم کا پل بنا دیا جائے گا جس پر چڑھ کر لوگ جہنم کو عبور کریں گے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (1116) // ضعيف سنن ابن ماجة (230)، المشكاة (1392)، ضعيف الجامع الصغير (5516) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (513) إسناده ضعيف /جه 1116 ¤ رشدين: ضعيف (تقدم:54) وزبان بن فائد: ضعيف (د 1287)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 88 (1116)، (تحفة الأشراف: 11292)، مسند احمد (3/437) (حسن) (سند میں رشدین بن سعد اور زبان بن فائد دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی45، السراج المنیر 1512، والصحیحہ 3122)
جامع الترمذي • حدیث #513
511 512 513 514 515
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ