جامع الترمذي حدیث نمبر: 449
Jami at-Tirmidhi 449
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ؟ فَقَالَتْ: " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ بِالْقِرَاءَةِ وَرُبَّمَا جَهَرَ "فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا : رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی کیا آپ قرآن دھیرے سے پڑھتے تھے یا زور سے ؟ کہا : آپ ہر طرح سے پڑھتے تھے ، کبھی سری پڑھتے تھے اور کبھی جہری ، تو میں نے کہا : اللہ کا شکر ہے جس نے دین کے معاملے میں کشادگی رکھی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 449]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (1291)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 6 (307)، سنن ابی داود/ الصلاة 343 (1437)، سنن النسائی/قیام اللیل 23 (1663)، (التحفہ: 16297)، مسند احمد (6/149)، ویاتي عند المؤلف في ثواب القرآن 23 (برقم: 2924) (صحیح)