جامع الترمذي حدیث نمبر: 448
Jami at-Tirmidhi 448
کتاب #3: کتاب: نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل
218: باب مَا جَاءَ فِي قِرَاءَةِ اللَّيْلِ
باب: قیام اللیل (تہجد) میں قرأت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَيْلَةً ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 448]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: تہجد کی ساری رکعتوں میں صرف یہی ایک آیت دھرا دھرا کر پڑھتے رہے۔ اور وہ آیت کریمہ یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» (سورة المائدة:)، (رواہ النسائی وابن ماجہ)، ”اے رب کریم! اگر تو ان (میری امت کے اہل ایمان، مسلمانوں) کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں، (سزا دیتے وقت بھی ان پر رحم فرما دینا) اور اگر تو ان کو بخش دے گا تو بلاشبہ تو نہایت غلبے والا اور دانائی والا ہے“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17802) (صحیح الإسناد)